ایک حیرت انگیز انکشاف

by Other Authors

Page 41 of 41

ایک حیرت انگیز انکشاف — Page 41

مصطفے پر ترا بیحد ہو سلام اور رحیمت ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکا یا ہم نے کوئی دیں دین محمد سانہ پا یا ہم نے کوئی مذہب نہیں ایسا کہ نشان کھلائے یہ شمر باغ محمد سے ہی کھایا ہم نے ہم نے اسلام کو خود تجربہ کر کے دیکھا نور ہی نور اٹھو دیکھیو سُنایا ہم نے اور دینوں کو جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا کوئی دکھلائے اگر حق کو چھپایا ہم نے تھک گئے ہم تو انہی باتوں کو کتنے کتنے ہر طرف دعوتوں کا تیر چلایا ہم نے ازمائش کیلئے کوئی نہ آیا ہر چند ہر مخالف کو مقابل پر بلایا ہم نے یو نہی غفلت کے لحافوں میں پٹے سوتے ہیں وہ نہیں جاگتے سو بارہ جگایا ہم نے جل رہے ہیں یہ بھی نینوں میں اور کینوں میں باز آتے نہیں ہر چند ہٹایا ہم نے آؤ لو گویا کہ نہیں نورِ خدا پاؤ گے ؟؟ لو تمھیں طور تستی کا بتایا ہم نے آج ان نوروں کا اک زور ہے اس عاجز میں دل کو ان نوروں کا ہر رنگ دلایا ہم نے سے یہ نور ملا نور ہمیشہ سے ہمیں ذاسے حق کی وجود اپنا عملایا ہم نے مصطفے پر ترا بیجد ہو سلام اور رحمت اس سے یہ نور کیا بار خدا یا ہم نے