ایک حیرت انگیز انکشاف

by Other Authors

Page 30 of 41

ایک حیرت انگیز انکشاف — Page 30

عقل خام سے چاہتا ہے۔حالانکہ یہ بات غلط محض ہے تاریخی امور تو تاریخ ہی سے ثابت ہوں گے اور خواص الاشیاء کا تجربہ بڑوں تجربہ صحیحہ کے کیونکر لگ سکے گا۔امور قیاسیہ کا پتہ عقل دے گی۔اسی طرح پر متفرق طور پر الگ الگ ذرائع ہیں۔انسان دھوکہ میں مبتلا ہو کر حقائق الاشیاء کے معلوم کرنے سے تب ہی محروم ہو جاتا ہے جبکہ وہ ایک ہی چیز کو مختلف امور کی تکمیل کا ذریعہ قرار دے لیتا ہے۔میں اس اُصول کی صداقت پر زیادہ کہنا ضروری نہیں سمجھتا کیو نکہ ذرا سے فکر سے یہ بات خوب سمجھ میں آجاتی ہے اور روزمرہ ہم ان باتوں کی سچائی دیکھتے ہیں۔پس جب روح جسم سے مفارقت کرتی ہے یا تعلق پکڑتی ہے تو ان باتوں کا فیصلہ عقل سے نہیں ہو سکتا۔اگر ایسا ہوتا تو فلسفی اور حکما ء ضلالت میں مبتلا نہ ہوتے۔اسی طرح قبور کے ساتھ جو تعلق ارواح کا ہوتا ہے۔یہ ایک صداقت تو ہے مگر اس کا پتہ دینا اس کی آنکھ کا کام نہیں۔یشفی آنکھ کا کام ہے کہ وہ دکھلاتی ہے۔اگر محض عقل سے اس کا پتہ لگانا چاہو تو کوئی عقل کا پہلا اتنا ہی بتائے کہ روح کا وجود بھی ہے یا نہیں ؟ ہزار اختلاف اس مسئلہ پر موجود ہیں اور ہزار ہا فلاسفر دہریہ مزاج موجود ہیں جو منکر ہیں۔اگر تری عقل کا یہ کام تھا تو پھر اختلاف کا کیا کام ؟ کیونکہ جب آنکھ کا کام دیکھنا ہے تو میں نہیں کر سکتا کہ زید کی آنکھ تو مفید چیز کو دیکھے اور بکر کی ویسی ہی آنکھ اس سفید چیز کا ذائقہ بتلائے۔میرا مطلب