ایک حیرت انگیز انکشاف

by Other Authors

Page 12 of 41

ایک حیرت انگیز انکشاف — Page 12

ہے پس کیا مناسب ہے کہ ایک خدا داد قوت کو تو حد سے زیادہ استعمال کیا جائے اور دوسری قوت کو اپنی فطرت میں سے بکتی کاٹ کر پھینک دیا جائے اس سے تو خدا پر اعتراض آتا ہے کہ گویا اس نے بعض قوتیں انسان کو ایسی دی ہیں جو استعمال کے لائق نہیں۔کیونکہ یہ مختلف قوتیں اسی نے تو انسان میں پیدا کی ہیں۔پس یاد رہے کہ انسان میں کوئی بھی قوت بڑی نہیں ہے بلکہ ان کی بد استعمالی بُری ہے سو انجیل کی تعلیم نہایت ناقص ہے جس میں ایک ہی پہلو پر زور دیا گیا ہے۔علاوہ اس کئے عویٰ۔وایسی تعلیم کا ہے کہ ایک طرف طمانچہ کھ کر دوسری بھی پھیر دیں گر اس دعوی کے موافق عمل نہیں ہے مثلاً ایک پادری صاحب کو کوئی طمانچہ مار کر دیکھیے کہ پھر عدالت کے ذریعہ سے وہ کیا کارروائی کراتے ہیں۔پس یہ تعلیم کس کام کی ہے جس پر نہ عدالتیں چل سکتی ہیں۔نہ پادری چل سکتے ہیں۔اصل تعلیم قرآن شریف کی ہے جو حکمت اور موقعہ شناسی پر مبنی ہے مثلاً انجیل نے تو یہ کہا کہ ہر وقت تم لوگوں کے طمانچے کھاؤ اور کسی حالت میں نشتر کا مقابلہ نہ کر دیگر قرآن شریف اس کے مقابل پر یہ کہتا ہے جزاء سيّئة سيّئة مثلها فمن عفا واصلح ناجره