ایک حیرت انگیز انکشاف — Page 11
اسلام کا فلسفہ اخلاق حضرت اقدس اپنی مشہور کتاب نسیم دعوت میں اسلام کے فلسفہ اخلاق پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ :- انسان کی فطرت پر نظر کر کے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو مختلف قومی اس غرض سے دیئے گئے ہیں کہ تا وہ مختلف وقتوں میں حسب تقاضا محل اور موقعہ کے ان قومی کو استعمال کرے۔مثلاً انسان میں منجمد اور حلقوں کے ایک خلق بکری کی فطرت سے مشابہ ہے اور دوسرا خلق شیر کی صفت سے مشابہت رکھتا ہے۔میں خدائے تعالیٰ انسان سے یہ چاہتا ہے کہ وہ بکری بننے کے محل میں نیکری بن جائے اور شہیر بننے کے محل میں دہ شیر ہی بن جائے اور جیسا کہ وہ نہیں چاہتا کہ ہر وقت انسان سوتا ہی رہے یا ہر وقت جاگتا ہی رہے یا ہردم کھاتا ہی رہے یا ہمیشہ کھانے سے منہ بند رکھے۔اسی طرح وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ انسان اپنی اندرونی قوتوں میں سے صرف ایک قوت پر زور ڈالدے اور دوسری قوتیں جو خدا کی طرف سے اس کو ملی ہیں۔اس کو لغو سمجھے۔اگر انسان میں خدا نے ایک قوت علم اور نرمی اور درگزر اور صبر کی رکھی ہے تو اسی خدا نے اس میں ایک قوت غضب اور خواہش انتقام کی بھی رکھی