احمدیت کی امتیازی شان — Page 53
۵۳ نیز لکھتے ہیں :- " ہمارا اصل منشاء اور مدعا آنحضرت صلی اللہ علیہ ولم کا جلال ظاہر کرنا ہے اور آپ کی عظمت کو قائم کرنا۔ہما را ذکر تو ضمنی ہے اسلئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جذب اور افاضہ کی قوت ہے اور اسی افاضہ میں ہمارا ذکر ہے۔(ایضاً جلد ۳ ص۲۶۹) نیز فرماتے ہیں ہے این چشمه روان که بخلق تعداد دهم یک قطرہ نہ بحر کمال محمد است یعنی معارف کا یہ دائمی چشمہ جو میں مخلوق خدا کو دیتا ہوں وہ میرے آقا و مولیٰ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی کمالات برکات کے غیر محدو د سمندر کا محض ایک قطرہ ہے جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی چاکری غلامی اور کفش برداری کے طفیل مجھے حاصل ہوا ہے۔پس آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے مقابلہ میں میری کچھ بھی حیثیت نہیں۔اُس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں میں فیصلہ یہی ہے