احمدیت کا پیغام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 55

احمدیت کا پیغام — Page 8

کوئی کلمہ تھا لیکن مسلمان جس کے نبی کی کلمہ خصوصیت تھا جس کے نبی کو اللہ تعالیٰ نے کلمہ سے ممتاز کیا تھا، جس کو کلمہ کے ذریعہ سے دوسری قوموں پر فضیلت دی گئی وہ بڑی فراخ دلی سے اپنے نبی کی اس فضیلت کو دوسرے نبیوں میں بانٹنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور جبکہ ان نبیوں کی اپنی امتیں کسی کلمہ کی دعویدار نہیں۔یہ اُن کی طرف سے کلمے بنا کر آپ پیش کر دیتا ہے کہ یہودیوں کا یہ کلمہ تھا اور ابراہیمیوں کا یہ تھا اور عیسائیوں کا یہ کلمہ تھا۔خلاصہ کلام یہ کہ ہر مذہب کے لئے کلمہ کا ہونا ضروری نہیں۔اگر ضروری ہوتا تب بھی احمدیت کا کوئی نیا کلمہ نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ احمدیت کوئی نیا مذہب نہیں۔احمدیت صرف اسلام کا نام ہے۔احمدیت اسی کلمہ پر ایمان رکھتی ہے جس کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش کیا۔یعنی لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ احمدیوں کے نزدیک اس مادی جہان کا پیدا کرنے والا ایک خدا ہے جو وحدہ لاشریک ہے جس کی قوتوں اور طاقتوں کی کوئی انتہاء نہیں۔جو رب ہے ، رحمن ہے ، رحیم ہے، مالک یوم الدین ہے۔اُس کے اندر وہ تمام صفات پائی جاتی ہیں جو قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں اور وہ اُن تمام باتوں سے منزہ ہے جن باتوں سے قرآن کریم نے اُسے منزہ قرار دیا ہے اور احمدیوں کے نزدیک محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب قرشی ملکی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول تھے اور سب سے آخری شریعت آپ پر نازل ہوئی۔آپ بجھی اور عربی ، گورے اور کالے، تمام اقوام اور تمام نسلوں کی طرف مبعوث ہوئے۔آپ کا زمادیہ نبوت ادعائے بنوت سے لے کر اُس وقت تک ممتد ہے جب تک کہ دنیا کے پردہ پر کوئی متنفس زندہ ہے، آپ کی تعلیم ہر انسان کے لئے واجب العمل ہے اور کوئی انسان ایسا