احمدیت کا پیغام — Page 17
۱۷ عمریں قرآن کریم اور احادیث پر غور اور تدبر کرنے میں صرف کر دی ہیں اجتہاد کرنے کے مستحق ہیں اور ایک عام آدمی جس نے نہ قرآن پر غور کیا ہے نہ حدیث پر غور کیا ہے یا جس کا علم اور تفقہ اس قابل ہی نہیں ہے کہ وہ غور کر سکے، اس کا حق نہیں کہ وہ یہ کہے کہ امام ابو حنیفہ یا امام احمد یا امام شافعی یا امالک یا دوسرے آئمہ دین کو کیا حق ہے کہ اُن کی بات کو مجھ سے زیادہ وزن دیا جائے۔میں بھی مسلمان ہوں اور وہ بھی مسلمان۔اگر ایک عام آدمی اور ایک ڈاکٹر کا مرض کے متعلق اختلاف ہو تو ایک ڈاکٹر کی رائے کو عام کی رائے پر ترجیح دی جاتی ہے اور قانون میں اختلاف ہو تو ایک وکیل کی رائے کو غیر وکیل کی رائے پر ترجیح دی جاتی ہے پھر کیا وجہ ہے کہ دینی معاملات میں ان آئمہ کی رائے کو تر جیح نہ دی جائے جنہوں نے اپنی عمریں قرآن کریم اور حدیث پر تدبر کرنے پر صرف کر دی ہوں اور جن کے ذہنی قوی بھی دوسرے لاکھوں آدمیوں سے اچھے ہوں اور جن کے تقویٰ اور جن کی طہارت پر خدائی سلوک نے مہر لگادی ہو۔غرض احمدیت نہ گلی طور پر اہل حدیث کی بات کی تائید کرتی ہے نہ گلی طور پر مقلدین کی تائید کرتی ہے۔احمدیت کا سیدھا سادھا عقیدہ اس بارہ میں وہی ہے جو حضرت امام ابو حنیفہ کا تھا کہ قرآن کریم سب سے مقدم ہے۔اس سے اتر کر احادیث صحیحہ ہیں اور اس سے اتر کر ماہرین فن کا استدلال اور اجتہاد ہے۔اس عقیدہ کے مطابق احمدی بعض دفعہ اپنے آپ کو حنفی بھی کہتے ہیں جس کے معنے یہ بھی ہوتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ نے جو اصل مذہب کا بیان فرمایا ہے ہم اس کو صحیح تسلیم کرتے ہیں اور بعض دفعہ احمدی اپنے آپ کو اہل حدیث بھی کہہ دیتے ہیں کیونکہ احمدیت کے نزدیک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول جب وہ ثابت اور روشن ہو تمام بنی نوع انسان کے اقوال پر فوقیت رکھتا ہے حتی کہ تمام آئمہ کے مجموعی اقوال پر بھی فوقیت رکھتا ہے۔