احمدیت کا پیغام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 55

احمدیت کا پیغام — Page 16

۱۶ وعدم تقلید کے مسئلہ میں بین بین راہ اختیار کرتی ہے۔احمدیت کی تعلیم یہ ہے کہ جو بات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو اس کے بعد کسی اور انسان کی آواز کو سننا محمد رسول اللہ کی ہتک ہے۔آقا کے ہوتے ہوئے کسی غلام کی آواز نہیں سنی جاسکتی۔اُستاد کی موجودگی میں کسی شاگرد سے سبق نہیں لیا جا سکتا۔آئمہ فقہاء خواہ کتنے بڑے ہوں بہر حال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگرد اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں اُن کی تمام عزت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں تھی اور اُن کی تمام شان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں تھی۔پس جب کوئی بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو جائے اور اس کی علامت یہ ہے کہ وہ قول جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا جائے قرآن کریم کے مطابق ہو تو وہ بات ایک آخری فیصلہ ہے، ایک نہ ٹلنے والا حکم ہے اور کوئی شخص اس بات کا حق نہیں رکھتا کہ وہ اس حکم کو ر ڈ کر دے یا اس کے خلاف زبان کھولے لیکن چونکہ حدیث کے راوی انسان ہیں اور ان میں نیک بھی ہیں اور بد بھی ہیں اور اچھے حافظوں والے بھی ہیں اور بُرے حافظوں والے بھی ہیں اور اچھے ذہن والے بھی ہیں اور کند ذہن والے بھی ہیں۔اگر کوئی ایسی حدیث ہو جس کا مفہوم قرآن کریم کے خلاف ہو تو چونکہ ہر ایک حدیث قطعی نہیں بلکہ خود آئمہ حدیث کے مسلمات کے مطابق بعض حدیثیں قطعی ہیں اور بعض عام درجہ کی ہیں بعض مشکوک اور ظنی ہیں اور بعض وضعی ہیں اس لئے قرآن کریم جیسی قطعی کتاب کے مقابلہ میں جو حدیث آجائے گی اُس کو تسلیم نہیں کیا جائے گا مگر جہاں قرآن کریم کی بھی کوئی نص صریح موجود نہ ہو اور حدیث بھی ایسے ذرائع سے ثابت نہ ہو جو یقین اور قطعیت تک پہنچاتے ہوں یا حدیث کے الفاظ ایسے ہوں کہ اُن سے کئی معنے نکل سکتے ہوں تو اس وقت یقیناً آئمہ فقہاء جنہوں نے اپنی