احمدیت کا پیغام — Page 4
مذہب کے لئے کسی کلمہ کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ اس سے بڑھ کر میں یہ کہتا ہوں کہ کلمہ اسلام کے سوا کسی مذہب کی علامت نہیں۔جس طرح اسلام دوسرے مذاہب سے اپنی کتاب کے لحاظ سے ممتاز ہے، اپنے نبی کے لحاظ سے ممتاز ہے، اپنی عالمگیری کے لحاظ سے ممتاز ہے اسی طرح اسلام دوسرے مذاہب سے کلمہ کے لحاظ سے بھی ممتاز ہے ، دوسرے مذاہب کے پاس کتابیں ہیں مگر کلام اللہ سوائے مسلمانوں کے کسی کو نہیں ملا۔کتاب کے معنی صرف مضمون کے ہیں، فرائض کے ہیں، احکام کے ہیں لیکن کتاب کے مفہوم میں ہر گز یہ بات شامل نہیں کہ اس کے اندر بیان شدہ مضمون کا ایک ایک لفظ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو مگر اسلامی کتاب کا نام کلام اللہ رکھا گیا یعنی اس کا ایک ایک لفظ بھی خدا تعالیٰ کا بیان کردہ ہے جس طرح اس کا مضمون خدا تعالیٰ کا بیان کردہ ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب کا مضمون وہی تھا جو خُدا تعالیٰ نے بیان فرمایا تھا۔حضرت عیسی علیہ السلام کی وہ تعلیم جو دُنیا کے سامنے وہ پیش کرتے تھے وہی تھی جو خدا تعالیٰ نے اُن کو دی تھی لیکن ان لفظوں میں نہ تھی جو خدا تعالیٰ نے استعمال فرمائے تھے۔تورات، انجیل اور قرآن کو پڑھنے والا اگر اس مضمون کی طرف اس کی تو جہ کو پھیر دیا جائے تو دس منٹ کے مطالعہ کے بعد ہی یہ فیصلہ کر لے گا کہ تو رات اور انجیل کے مضامین خواہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں اُن کے الفاظ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور اسی طرح وہ یہ بھی فیصلہ کر لے گا کہ قرآن کریم کے مضامین بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور اس کے الفاظ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔یا یوں کہہ لو کہ ایک ایسا شخص جو قرآن کریم تو رات اور انجیل پر ایمان نہیں رکھتا ان تینوں کتابوں کا چند منٹ مطالعہ کرنے کے بعد اس بات کا اقرار کرنے پر مجبور ہوگا کہ تورات اور انجیل کو پیش کرنے والے گو اس بات