احمدیت کا پیغام — Page 3
اَعُوْذُ بِا اللَّهُ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّىٰ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ خُدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ الله ماصر احمدیت کیا ہے اور کس غرض سے اس کو قائم کیا گیا ہے؟ یہ ایک سوال ہے جو بہت سے واقفوں اور ناواقفوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے۔واقفوں کا مطالعہ زیادہ گہرا ہوتا ہے اور نا واقفوں کے سوالات بہت سطحی ہوتے ہیں۔بوجہ عدم علم کے بہت سی باتیں وہ اپنے خیال سے ایجاد کر لیتے ہیں اور بہت سی باتوں پر لوگوں سے سُن سُنا کر یقین کر لیتے ہیں۔میں پہلے انہی لوگوں کی واقفیت کے لئے کچھ باتیں کہنی چاہتا ہوں جو عدم علم اور ناواقفیت کی وجہ سے احمدیت کے متعلق مختلف قسم کی غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں۔احمدیت کوئی نیا مذ ہب نہیں ان ناواقفوں میں سے بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ احمدی لوگ کلمہ لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کے قائل نہیں اور احمدیت ایک نیا مذہب ہے یہ لوگ یا تو بعض دوسرے لوگوں کے بہکانے سے یہ عقیدہ رکھتے ہیں یا اُن کے دماغ یہ خیال کر کے کہ احمدیت ایک مذہب ہے اور ہر مذہب کے لئے کسی کلمہ کی ضرورت ہے سمجھ لیتے ہیں کہ احمدیوں کا بھی کوئی نیا کلمہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ احمدیت کوئی نیا مذہب ہے اور نہ