احمدیت کا پیغام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 55

احمدیت کا پیغام — Page 46

۴۶ خلاصہ کلام یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا طریق اپنی جماعت کے لئے بھی کھولا اور اپنے منکروں کے سامنے بھی اس طریق کو پیش کیا۔ہمارا خدا ایک زندہ خدا ہے، وہ اب بھی کارخانہ عالم چلا رہا ہے، دنیا کا بھی اور دین کا بھی۔ایک مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اس سے تعلق پیدا کرے اور اس کے قریب ہوتا چلا جائے اور وہ شخص جس پر ہدایت ظاہر نہیں ہوئی اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے ہی روشنی چاہے اور اسی کی مدد سے حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرے، پس اصل کام اور اصل پیغام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہی تھا کہ وہ دنیا کی اصلاح کریں اور بنی نوع انسان کو پھر خدا تعالیٰ کی طرف لے جائیں اور جولوگ خدا تعالیٰ کے ملنے سے مایوس ہیں ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی ملاقات کا یقین پیدا کریں اور اس قسم کی زندگی سے لوگوں کو روشناس کریں جو موسیٰ اور عیسی علیہا السلام اور دوسرے انبیاء کے زمانہ میں لوگوں کو نصیب تھی۔اے عزیزو! پرانی کتابیں پڑھ کر دیکھو، پھر خود اپنے اسلاف کی تاریخ دیکھو، کیا ان لوگوں کی زندگیاں مادی تھیں؟ کیا ان کے کام صرف مادی تدابیر سے چلتے تھے؟ وہ لوگ خدا تعالیٰ کی محبت کے حاصل کرنے کے لئے رات دن تڑپتے تھے اور ان میں سے کامیاب لوگ خدا تعالیٰ کے معجزات اور نشانات سے حصہ پاتے تھے اور یہی وہ زندگی تھی جو ان کو دوسری قوموں کے لوگوں سے ممتاز کرتی تھی لیکن آج وہ کونسا امتیاز ہے جو مسلمانوں کو ہندوؤں اور عیسائیوں اور دوسری قوموں کے مقابلہ میں حاصل ہے؟ اگر کوئی ایسا امتیاز نہیں تو پھر اسلام کی ضرورت کیا ہے؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا امتیاز ہے لیکن مسلمانوں نے اسے بھلا دیا اور وہ امتیاز یہ ہے کہ اسلام میں ہمیشہ کے لئے خدا تعالیٰ کا کلام جاری ہے اور ہمیشہ ہی خدا تعالیٰ کے ساتھ براہ راست تعلق پیدا کیا جاسکتا ہے رسول کریم