احمدیت کا پیغام — Page 45
۴۵ اپنے خلاف خود ہی ڈگری دے دیتا ہے اور اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مارتا ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیشہ ہی دنیا کے سامنے یہ بات پیش کی کہ میں اپنے ساتھ ہزاروں دلائل رکھتا ہوں لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر تمہاری ان دلائل سے تسلی نہیں ہوتی تو نہ میری سنو اور نہ میرے مخالفوں کی سنو ، خدا تعالیٰ کے پاس جاؤ اور اس سے پوچھو کہ آیا میں سچا ہوں یا جھوٹا ہوں۔اگر خدا تعالیٰ کہہ دے کہ میں جھوٹا ہوں تو بے شک جھوٹا ہوں لیکن اگر خدا تعالیٰ یہ کہے کہ میں سچا ہوں تو پھر تمہیں میری سچائی کے قبول کرنے سے کیا انکار ہے؟ اے عزیز وا یہ کتنا سیدھا اور راستبازی کا طریق فیصلہ تھا۔ہزاروں نے اس سے فائدہ اٹھایا اور تمام وہ لوگ جو اس طریق فیصلہ کو اب بھی قبول کریں، اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اس طریق فیصلہ میں در حقیقت یہی حکمت کارفرما تھی کہ آپ سمجھتے تھے کہ دین دنیا پر مقدم ہے، آپ فرماتے تھے کہ خدا تعالیٰ نے مادی چیزوں کے دیکھنے کے لئے آنکھیں دی ہیں۔مادی چیزوں کے سمجھنے کے لئے عقل بخشی ہے اور مادی اشیاء کو دکھانے کے لئے اس نے اپنا سورج پیدا کیا ہے اور ستارے پیدا کئے ہیں پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ روحانی ہدایتوں کے دکھانے کے لئے اس نے کوئی رستہ تجویز نہ کیا ہو۔یقیناً جب کبھی بھی کوئی شخص اس سے روحانی چیزوں کو دیکھنے کی خواہش کرتا ہے خدا تعالیٰ اس کے لئے رستہ کھول دیتا ہے وہ خود قرآن کریم میں فرماتا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَهُمْ سُبُلَنَا۔جو لوگ بھی ہمارے ملنے کی خواہش رکھتے ہوئے جد و جہد سے کام لیتے ہیں ہم ان کو ضرور اپنا رستہ دکھا دیتے ہیں۔ل العنكبوت: ۷۰