احمدیت کا پیغام — Page 44
۴۴ کو پوری طرح سمجھ گیا وہ نماز کو اس طرح نہیں پڑھتا کہ گویا وہ ایک فرض ادا کر رہا ہے۔وہ نماز کو اس طرح پڑھتا ہے کہ گویا وہ خدا تعالیٰ سے کچھ لینے گیا ہے۔وہ خدا تعالیٰ سے ایک نیک تعلق پیدا کرنے کے لئے گیا ہے اور اس ارادہ کے ساتھ جو شخص نماز پڑھے گا، سمجھ میں آ سکتا ہے کہ اس کی نماز اور دوسرے لوگوں کی نماز یکساں نہیں ہوسکتی۔آپ نے خدا تعالیٰ کے تعلق پر اس حد تک زور دیا کہ فرمایا، میرے دعوے کے ماننے کے لئے خدا تعالیٰ نے بہت سے دلائل دیئے ہیں، مگر میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ تم ان دلائل کو سوچو اور ان پر غور کرو۔اگر تم ان دلائل پر سوچنے اور غور کرنے کا موقع نہیں پاتے یا اس کی ضرورت نہیں سمجھتے ، یا یہ خیال کرتے ہو کہ شاید ہماری عقل ان باتوں کے متعلق فیصلہ کرنے میں کوئی غلطی کر جائے تو میں تمہیں اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ سے میرے متعلق دعا کرو اور خدا تعالیٰ سے ہدایت چاہو کہ اگر یہ سچا ہے کہ تو ہماری رہنمائی فرما اور اگر یہ جھوٹا ہے تو ہمیں اس سے دور رکھ اور فرمایا کہ اگر کوئی شخص سچے دل سے بغیر تعصب کے کچھ دن اس قسم کی دعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کے لئے ہدایت کا رستہ کھولے گا اور میری صداقت اس پر روشن کر دے گا۔سینکڑوں اور ہزاروں آدمی ہیں جنہوں نے اس طرح کوشش کی اور خدا تعالیٰ سے روشنی پائی۔یہ کتنی بڑی روشن دلیل ہے۔انسان اپنی عقل میں غلطی کر سکتا ہے لیکن خدا تو اپنی راہنمائی میں غلطی نہیں کر سکتا۔اور کیسا یقین ہے اپنی سچائی پر اس شخص کو جو اپنی صداقت کے پہچاننے کے لئے اس قسم کا طریق فیصلہ دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔کیا کوئی جھوٹا یہ کہ سکتا ہے کہ جاؤ اور خدا تعالیٰ سے میرے متعلق پوچھو؟ کیا کوئی جھوٹا شخص یہ خیال کر سکتا ہے کہ اس قسم کا فیصلہ میرے حق میں صادر ہوگا ؟ جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں لیکن اس قسم کے طریق فیصلہ کو تسلیم کرتا ہے وہ تو گویا