احمدیت کا پیغام — Page 37
۳۷ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسُمه لا یعنی اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے گا اور قرآن کی صرف تحریر رہ جائے گی ، اسلام کا مغز کہیں نظر نہ آئے گا اور قرآن کے معنی کسی پر روشن نہ ہوں گے۔پس اے عزیز و! سلسلہ احمدیہ کا قیام اسی سنت قدیمہ کے ماتحت ہوا ہے اور انہی پیشگوئیوں کے مطابق ہوا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ سے پہلے انبیاء نے اس زمانہ کے متعلق بیان فرمائی ہیں۔اگر مرزا صاحب کا انتخاب اس کام کے لئے مناسب نہ تھا تو یہ خدا تعالیٰ پر الزام ہے۔مرزا صاحب کا اس میں کیا قصور ہے۔لیکن اگر خدا تعالیٰ عالم الغیب ہے اور کوئی راز اس سے پوشیدہ نہیں اور اس کے تمام کام حکمتوں سے پر ہوتے ہیں تو پھر سمجھ لینا چاہئے کہ مرزا غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام کا انتخاب ہی صحیح انتخاب تھا اور انہی کے ماننے میں مسلمانوں اور دنیا کی بہتری ہے۔آپ کوئی نیا پیغام دنیا کے لئے نہیں لائے مگر وہی پیغام جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو سنایا تھا مگر دنیا اُسے بھول گئی۔وہی پیغام جو قرآن کریم نے پیش کیا تھا مگر دنیا نے اس کی طرف سے منہ موڑ لیا اور وہ یہی پیغام ہے کہ تمام کائنات کا پیدا کرنے والا ایک خدا ہے۔اس نے انسان کو اپنی محبت اور تعلق کے لئے پیدا کیا ہے۔اپنی صفات کو اس کے ذریعہ سے ظاہر کرنے کے لئے اسے بنایا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَبِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ " پس آدم اور اس کی نسل خدا تعالیٰ کی خلیفہ یعنی اس کی نمائندہ ہے۔وہ خدا تعالیٰ کی صفات کو دنیا پر ظاہر کرنے کے لئے پیدا کی گئی ہے۔پس تمام بنی نوع انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کو خدا تعالیٰ کی صفات کے مطابق بنا ئیں اور جس طرح ایک نمائندہ اپنے تمام کاموں میں اپنے موگل کی طرف بار بار متوجہ ہوتا ہے اور ایک لے مشکوۃ۔کتاب العلم الفصل الثالث صفحہ ۳۷، کنز العمال جلد ۶ صفحه ۴۳ سے سورۃ البقرہ:۳۱