احمدیت کا پیغام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 55

احمدیت کا پیغام — Page 36

۳۶ مجد دین ظاہر ہوتے رہیں۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہے کہ ان الله يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَّنْ يُجَيِّدُ لَهَا دِيْنَهَا ۖ لیکن اس عظیم الشان فتنہ کے موقع پر جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب سے دنیا میں انبیاء آنے لگے ہیں وہ اس فتنہ کی خبر دیتے چلے آئے ہیں۔کوئی مامورنہ آئے ، کوئی بادی نہ آئے ، کوئی راہنما نہ آئے ، مسلمانوں کو دین حقہ پر جمع کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی آواز بلند نہ کی جائے۔مسلمانوں کو تاریکی اور ظلمت کے گڑھے سے نکالنے کے لئے آسمان سے کوئی رسی نہ گرائی جائے۔وہ خدا جو ابتدائے عالم سے اپنے رحم و کرم کے نمونے دکھاتا چلا آیا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اس کے رحم اور کرم کے دریا میں مزید جوش پیدا ہو گیا ہے نہ کہ اس کا رحم اور کرم مٹ گئے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ کبھی بھی رحیم تھا تو امت محمدیہ کے لئے اس کر پہلے سے زیادہ رحیم ہونا چاہئے۔اگر خدا تعالیٰ کبھی بھی کریم تھا تو امت محمدیہ کے لئے اس کو پہلے سے زیادہ کریم ہونا چاہئے اور یقیناً وہ ایسا ہی ہے۔قرآن کریم اور احادیث اس پر شاہد ہیں کہ امت محمدیہ میں جب کبھی خرابی پیدا ہوگی خدا تعالیٰ اپنی طرف سے ہادی اور راہنما بھجواتا رہے گا۔خصوصاً اس آخری زمانہ میں جبکہ دجال کا فتنہ ظاہر ہوگا عیسائیت غالب آ جائے گی۔اسلام ظاہری طور پر مغلوب ہو جائے گا اور مسلمان دین کو چھوڑ بیٹھیں گے اور دوسری اقوام کے رسم و رواج کو اختیار کر لیں گے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک کامل مظہر ظاہر ہوگا اور اس زمانہ کی اصلاح کرے گا جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ لَا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ وَ لَا يَبْقَى مِنَ اه ابوداؤد جلد ۲ صفحه ۲۴۱ کتاب الفتن واصول الکافی صفحه ۶۹۴