احمدیت کا پیغام — Page 35
۳۵ بعد یہ کلام آسمان پر چڑھنا شروع ہوگا اور ایک ہزار سال میں یہ دنیا سے اٹھ جائے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قیام دین کے زمانہ کو تین سوسال کا عرصہ قرار دیتے ہیں۔جیسا کہ اوپر حدیث بیان کی جاچکی ہے اور قرآن کریم بھی السر کے ذریعہ سے دوسوا کہتر سال کا عرصہ اس زمانہ کو قرار دیتا ہے۔اس کے ساتھ ہزار سال تک دین کے آسمان پر چڑھنے کے عرصہ کو ملایا جائے تو یہ ا۱۲۷ ہوتا ہے۔گویا دینا سے اسلام کی روح کے غائب ہو جانے کا زمانہ قرآن کریم کی رو سے ۱۲۷۱ سال ہے یا تیرھویں صدی کا آخر۔جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے۔ایسے زمانہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ضرور ایک ہادی اور راہنما آیا کرتا ہے تا کہ دُنیا ہمیشہ کے لئے شیطان کے قبضہ میں نہ چلی جائے اور خدا تعالیٰ کی حکومت ابدی طور پر دنیا سے مٹ نہ جائے۔پس ضروری تھا کہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی شخص آتا۔وہ کوئی ہوتا مگر آنا ضرور تھا۔یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ آدم کے اتباع میں جب کبھی خرابی پیدا ہوئی تو خدا تعالیٰ نے اُن کی خبر لی۔نوع کے اتباع میں جب کبھی خرابی پیدا ہوئی تو خدا تعالیٰ نے ان کی خرب لی۔ابراہیم کے اتباع میں جب کبھی خرابی پیدا ہوئی تو خدا تعالیٰ نے اُن کی خبر لی۔موسیٰ“ کے اتباع میں جب کبھی خرابی پیدا ہوئی تو خدا تعالیٰ نے اُن کی خبر لی۔عیسی کے اتباع میں جب کبھی خرابی پیدا ہوئی تو خدا تعالیٰ نے اُن کی خبر لی۔لیکن سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں خرابی پیدا ہو تو خدا تعالیٰ اُس کی خبر نہ لے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے متعلق تو یہ پیشگوئی تھی کہ چھوٹے چھوٹے مفاسد کو دور کرنے کے لئے آپ کی اُمت میں ہر صدی کے سر پر ایک مجد دمبعوث ہوا کرے گا۔کیا کوئی عقل اس کو تسلیم کر سکتی ہے کہ چھوٹے چھوٹے مفاسد کو دور کرنے کے لئے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے