احمدیت کا پیغام — Page 23
۲۳ صدی میں ہوں گے۔پھر دُنیا میں سے سچائی مٹ جائے گی اور ظلم وتشد داور اختلاف کا دور دورہ ہو جائے گا اور ایسا ہی ہوا اور پھر یہ اختلاف بڑھتا ہی چلا گیا یہاں تک کہ گزشتہ تین صدیوں میں تو مسلمان اپنی طاقت بالکل کھو بیٹھے۔گجاوہ وقت تھا کہ یورپ ایک ایک مسلمان بادشاہ سے ڈرتا تھا اور اب یورپ اور امریکہ کی ایک ایک طاقت کا مقابلہ کرنے کی سکت سارے عالم اسلام میں بھی نہیں۔یہودیوں کی کتنی چھوٹی سی حکومت فلسطین میں بنی ہے۔شام، عراق، لبنان ، سعودی عرب، مصر اور فلسطین کی فوجیں اس کا مقابلہ کر رہی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یو۔این۔اونے جو علاقہ یہودیوں کو دیا تھا اس سے بہت زیادہ اس وقت یہودیوں کے قبضہ میں ہے۔یہ درست ہے کہ یہودی حکومت کی مدد امریکہ اور انگلستان کر رہے ہیں لیکن سوال بھی تو یہی ہے کہ کبھی تو مسلمانوں کی ایک ایک حکومت سارے مغرب پر غالب تھی اور اب مغرب کی بعض حکومتیں سارے مسلمانوں سے زیادہ طاقت ور ہیں۔پس جماعت کا جو مفہوم ہے اس وقت اس کے مطابق مسلمانوں کی کوئی جماعت نہیں۔حکومتیں ہیں جن میں سب سے بڑی پاکستان کی حکومت ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب قائم ہوئی ہے لیکن اسلام پاکستان کا نام نہیں ، نہ اسلام مصر کا نام ہے، نہ اسلام شام کا نام ہے، نہ اسلام ایران کا نام ہے، نہ اسلام افغانستان کا نام ہے، نہ اسلام سعودی عرب کا نام ہے، اسلام تو اُس رشتہ وحدت کا نام ہے جس نے سارے مسلمانوں کو یکجا کر دیا تھا اور ایسا کوئی نظام اس وقت دنیا میں موجود نہیں۔پاکستان کو افغانستان سے ہمدردی ہے افغانستان کو پاکستان سے ہمدردی ہے لیکن نہ پاکستان افغانستان کی ہر بات ماننے کے لئے تیار ہے نہ افغانستان پاکستان کی ہر بات ماننے کے لئے تیا رہے۔دونوں کی سیاست الگ الگ ہے اور دونوں اپنے اندرونی معاملات