احمدیت کا پیغام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 55

احمدیت کا پیغام — Page 19

۱۹ ہے۔مسلمان خدائی تقدیر پر نظر رکھ کر بیٹھے رہے اور اس جد و جہد کو انہوں نے ترک کر دیا جو قومی ترقی کے لئے ضروری ہوتی ہے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دین سے تو گئے تھے دُنیا سے بھی گزر گئے۔اگر وہ اس امر کو مد نظر رکھتے کہ جن کاموں کے لئے خدا تعالیٰ نے تدبیر کا دروازہ کھولا ہے ان میں تقدیر کو مدنظر رکھنے کی بجائے تدبیر کو مد نظر رکھنا چاہئے تو اُن کی حالت اتنی نہ گرتی اور وہ اتنے زبوں حال نہ ہوتے جتنے کہ اب ہیں۔احمدیوں کا جہاد کے متعلق عقیدہ احمدیت کے متعلق جو غلط فہمیاں ہیں اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ احمدی جہاد کے منکر ہیں۔یہ درست نہیں۔احمدی جہاد کے منکر نہیں۔احمدیوں کا عقیدہ صرف یہ ہے کہ جنگیں دو قسم کی ہوتی ہیں ایک جہاد اور ایک محض جنگ۔جہاد صرف اس جنگ کو کہتے ہیں جس میں مذہب کو بچانے کے لئے لڑائی کی جائے اور ایسے دشمنوں کا مقابلہ کیا جائے جو مذہب کو تلوار کے زور سے مٹانا چاہتے ہیں اور جو شجر کی نوک سے عقیدہ تبدیل کروانا چاہتے ہیں، اگر دنیا میں ایسے واقعات ظاہر ہوں تو جہاد ہر مسلمان پر فرض ہو جاتا ہے مگر ایسے جہاد کے لئے ایک یہ بھی شرط ہے کہ اس جہاد کا اعلان امام کی طرف سے ہونا چاہئے تا مسلمانوں کو معلوم ہو سکے کہ ان میں سے کن کن کو جہاد میں شامل ہونا چاہئے اور کن کن کو اپنی باری کا انتظار کرنا چاہئے۔اگر ایسا نہ ہو تو ایسے جہاد کے موقع کے آنے پر جو مسلمان بھی جہاد میں شامل نہ ہو گا وہ گنہگار ہو گا لیکن اگر امام ہو تو وہی مسلمان گنہ گار ہو گا جس کو جہاد کے لئے بلایا جائے اور وہ نہ آئے۔جب احمدی جماعت کسی ملک میں جہاد کا انکار کرتی تھی تو اس لئے کرتی تھی کہ مذہب کو بزور شمشیر بدلوانے کی کوشش انگریز نہیں کر رہے