احمدیت کا پیغام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 55

احمدیت کا پیغام — Page 32

۳۲ الگ رہنا خود بخو دطبائع میں استعجاب پیدا کرتا ہے اور آپ ہی آپ لوگ اس کی گرید اور مجنس شروع کر دتے ہیں اور آخر ایک دن اسی چیز کا شکار ہو جاتے ہیں جس کو مٹانے کے لئے وہ آگے بڑھتے ہیں۔پس یہ سارے اعتراضات قلتِ تدبر کا نتیجہ ہیں۔اگر عقل سے کام لیا جائے تو سمجھ آ سکتا ہے کہ اصل میں وہی طریقہ درست ہے جو احمدیت نے اختیار کیا ہے۔اسی صحیح طریقہ پر عمل کر کے وہ اسلام کے لئے قربانی کرنے والوں کی ایک جماعت پیدا کر سکی ہے اور جب تک وہ اس طریق پر عمل کرتی رہے گی روز بروز ایسے افراد کی تعداد کو بڑھاتی چلی جائے گی یہاں تک کہ کفر محسوس کرے گا کہ اب اسلام طاقت پکڑ گیا ہے اور وہ اسلام پر اپنی ساری طاقت کے ساتھ حملہ کرے گا، مگر حملے کا وقت گزر چکا ہوگا۔میدان اسلام ہی کے ہاتھ رہے گا اور کفر شکست کھا جائے گا۔ہم سیاسی جد و جہد کرنے والوں کے راستہ میں روک نہیں بنتے۔ہم اُن سے کہتے ہیں کہ جب تک تمہاری سمجھ میں ہماری باتیں نہ آئیں تم اپنا کام کرتے چلے جاؤ لیکن ہم ان سے یہ بھی خواہش کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنے راستہ سے نہ روکیں۔اگر کسی کی سمجھ میں ان کا طریقہ اچھا معلوم ہوتا ہے تو وہ ان سے جاملے اور اگر کسی کی سمجھ میں ہمارا طریقہ اچھا معلوم ہوتا ہے تو وہ ہم میں آملے۔ان کے طریقہ میں قربانی کم اور شہرت زیادہ ہے اور ہمارے طریقہ میں قربانی زیادہ اور شہرت کم ہے۔ان کو ان کا حصہ ملتا رہے گا اور ہم کو ہمارا حصہ ملتا رہے گا۔جن لوگوں کی نگاہ میں مغز اور حقیقت کے لحاظ سے اسلام کا قیام زیادہ ضروری ہوگا وہ ہم میں آملیں گے اور جو لوگ ظاہری بادشاہت کے شیدائی ہوں گے وہ اُن میں جاملیں گے۔لیکن ہم لڑیں کیوں اور جھگڑیں کیوں؟ دونوں ہی غم ملتمیں تڑپ رہے ہیں، گو جدا جدا اعضاء میں ٹیس اٹھ رہی ہے۔اُن کے دماغوں میں درد ہے۔ہمارے دل