احمدیت کا پیغام — Page 31
۳۱ آدمی چھین کر نہیں لے جا رہی۔پس یہ نہیں کہنا چاہئے کہ احمدیت نے ایک نئی جماعت کیوں قائم کی ہے کہنا یہ چاہئے کہ احمدیت نے ایک جماعت قائم کر دی جبکہ اس سے پہلے کوئی جماعت نہیں تھی اور کیا یہ قابل اعتراض بات ہے یا قابل تعریف بات ہے؟ احمدیوں کو دوسری جماعتوں سے علیحدہ رکھنے کی وجہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایسی کسی جماعت کے بنانے کی ضرورت کیا تھی۔یہی باتیں دوسرے مسلمانوں میں پھیلائی جانی چاہئے تھیں۔اس کی منتقلی جواب یہ ہے کہ ایک کمانڈر انہی لوگوں کو لڑائی میں بھیج سکتا ہے جو فوج میں بھرتی ہو چکے ہوں۔جو لوگ فوج میں بھرتی نہیں وہ اُن کو بھیج کس طرح سکتا ہے؟ اگر جماعت ہی کوئی نہ بنائی جاتی تو بانی سلسلہ احمدیہ کس سے کام لیتا اور کس کو حکم دیتا اور اُن کے خلفاء کس سے کام لیتے اور کس کو حکم دیتے ؟ کیا وہ بازار میں پھرنا شروع کرتے اور ہر مسلمان کو پکڑ کر کہتے کہ آج فلاں جگہ اسلام کے لئے ضرورت ہے تو وہاں جا اور وہ آگے سے یہ جواب دیتا کہ میں تو آپ کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں اور پھر وہ اگلے آدمی کو جا پکڑتے اور پھر اس سے اگلے آدمی کو جا پکڑتے۔یہ ایک عقلی حقیقت ہے کہ جب کوئی منظم کام کرنا ہو تو اس کے لئے ایک جماعت کی ضرورت ہوتی ہے۔بغیر ایسی جماعت کے کوئی منظم کام نہیں ہوسکتا۔اگر کہو کہ جماعت تو بناتے لیکن سب میں ملے جلے رہتے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جان کو جوکھوں میں ڈالنے والے کاموں کے لئے ہر شخص کہاں تیار ہوتا ہے۔ایسے کام تو وہ دیوانے ہی کیا کرتے ہیں اور دیوانوں کو ہوشیاروں سے الگ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔اگر ہوشیار دیوانوں کو بھی اپنے جیسا بنالیں گے تو پھر ایسے کام کو کون کرے گا نیز دوسروں سے