احمدیت کا پیغام — Page 24
۲۴ میں آزاد ہیں۔یہی حال افراد کا ہے۔افغانستان کے باشندے اپنی جگہ پر آزاد ہیں۔پاکستان کے باشندے اپنی جگہ پر آزاد ہیں۔مصر کے باشندے اپنی جگہ پر آزاد ہیں۔ان کو ایک لڑی میں پرونے والی کوئی چیز نہیں۔پس اس وقت مسلمان بھی ہیں مسلمانوں کی حکومتیں بھی ہیں اور ان میں سے بعض حکومتیں خدا تعالیٰ کے فضل سے مضبوط ہو رہی ہیں لیکن پھر بھی مسلمان ایک جماعت نہیں۔فرض کرو پاکستان کا بیڑا اتنا مضبوط ہو جائے کہ تمام بحر الہند میں حکومت کرنے لگ جائے۔اس کی فوج اتنی مضبوط ہو جائے کہ ہندوستان یونین اس سے کانپنے لگ جائے۔اس کی اقتصادی حالت اتنی بڑھ جائے کہ دُنیا کی منڈیوں پر اس کا قبضہ ہو جائے بلکہ اس کی اتنی طاقت بڑھ جائے کہ امریکہ کی طاقت سے بھی بڑھ جائے تو کیا ایران، شام، فلسطین اور مصر اپنے آپ کو پاکستان میں مدغم کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔وہ پاکستان کی عظمت کا اقرار کرنے کے لئے تیار ہوں گے وہ اس سے ہمدردی کرنے کے لئے تیار ہوں گے مگر وہ اپنی ہستی کو اس میں مٹا دینے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔پس گو خدا تعالیٰ کے فضل سے مسلمانوں کی سیاسی حالت بہتر ہو رہی ہے اور بعض نئی اسلامی حکومتیں قائم ہو رہی ہیں لیکن باوجود اس کے دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک اسلامی جماعت نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ مختلف سیاستوں میں بٹے ہوئے ہیں اور الگ الگ حکومتوں میں تقسیم ہیں۔ان سب کی آواز کو ایک جگہ جمع کرنے والی کوئی طاقت نہیں مگر اسلام تو عالمگیر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔اسلام عرب کے مسلمانوں کا نام نہیں۔اسلام شام کے مسلمانوں کا نام نہیں۔اسلام ایران کے مسلمانوں کا نام نہیں۔اسلام افغانستان کے مسلمانوں کا نام نہیں۔جب دینا کے ہر ملک کے مسلمان اسلام کے نام کے نیچے جمع ہو جاتے ہیں تو اسلامی جماعت وہی ہوسکتی ہے جو