احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 67 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 67

تعلیمی پاکٹ بک 67 حصہ اوّل (9) شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ آیت بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ الخ کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں :۔رَفَعُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ اِتِّصَالُ رُوحِهِ عِنْدَ الْمُفَارَقَةِ عَنِ الْعَالَمِ السّفْلِيّ بِالْعَالَمِ الْعَلَوِيِّ وَكَوْنُهُ فِي السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ إِشَارَةٌ أَنَّ مَصْدَرَ فَيُضَانِ رُوحِهِ رُوحَانِيَّةُ فَلَكِ الشَّمْسِ الَّذِي هُوَ بِمَثَابَةِ قَلْبِ الْعَالَمِ وَمَرْجِعُهُ إِلَيْهِ وَتِلْكَ الرُّوحَانِيَّةُ نُورٌ يُحَرِّكُ ذَلِكَ الْفَلَكَ بِمَعْشُوقِيَّتِهِ وَإِشْرَاقُ أَشِعَتِهِ عَلَى نَفْسِهِ الْمُبَاشَرَةِ لِتَحْرِيكِهِ وَلَمَّا كَانَ مَرْجِعُهُ إِلَى مَقَرِّهِ الَا صَلِي وَلَمْ يَصِلُ إِلَى الْكَمَالِ الْحَقِيقِ وَجَبَ نُزُولُه فِي آخِرِ الزَّمَانِ بِتَعَلَّقِهِ بَبَدَنِ اخَرَ۔(تفسیر حضرت ابن عربی صفحه 296 زیر تفسير سورة النساء: 159) کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے رفع کا مطلب یہ ہے کہ مفارقت کے وقت آپ کی روح عالم سفلی سے نکل کر عالم علوی سے متصل ہو گئی اور ان کے چوتھے آسمان پر ہونے میں اس طرف اشارہ ہے کہ آپ کی روح کے فیضان کا جائے صدور اس سورج کے آسمان کی روحانیت ہے جو دنیا جہان کے دل سے مشابہ ہے اور آپ کا مرجع بھی اسی کی طرف ہے اور وہ روحانیت ایک نور ہے جو اس آسمان کو اپنے عشق سے منور کرتا ہے اور اس کے نفس پر شعاعوں کا چمکنا اسی کی تحریک سے ہے اور چونکہ حضرت عیسی کا مرجع اس کی اصل جائے قرار کی طرف ہے اور اپنے کمال حقیقی تک رسائی نہیں پا سکتا لہذا آپ آخری زمانہ میں کسی دوسرے وجود کے ساتھ نزول فرمائیں گے۔