احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 493
493 حصہ دوم کیونکہ ان کا چیلنج ہی فیصلہ کے لئے کافی ہے۔مگر شرط یہ ہوگی کہ کوئی موت قتل کے رو سے واقع نہ ہو۔بلکہ محض بیماری کے ذریعہ سے ہو۔مثلاً طاعون سے یا ہیضہ سے یا اور کسی بیماری سے تا ایسی کارروائی حکام کیلئے تشویش کا موجب نہ اعجاز احمدی روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 121-122 ) ٹھہرے“۔پس 14 اپریل 1907ء والے الہام أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ کے سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لکھنا:۔ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے۔دراصل یہ ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہی اس کی بنیا درکھی گئی۔کا تعلق ان پہلی تحریروں سے ہے جو مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق لکھی گئی تھیں۔ان کے مطابق اگر مباہلہ وقوع میں آجا تا تو پھر دونوں فریق میں سے کسی کی ہلاکت اس کے خلاف فیصلہ گن ہوتی۔جب مولوی ثناء اللہ صاحب نے حضرت مرزا صاحب کو مباہلہ کے لئے مستعد پایا۔تو جان بچانے کی خاطر لکھا:۔چونکہ یہ خاکسار نہ واقعہ میں اور نہ آپ کی طرح نبی یا رسول یا ابن اللہ یا الہامی ہے۔اس لئے ایسے مقابلہ کی جرات نہیں کر سکتا۔(الہامات مرزا بار دوم صفحه 85) جب مولوی ثناء اللہ صاحب کے اپنوں نے دیکھا کہ وہ چیلنج سے پھر گئے ہیں۔جسے حضرت اقدس نے اعجاز احمدی میں قبول کرلیا تھا۔اور ان کے ساتھیوں نے ان پر کچھ گرفت کی تو ان کی آنکھوں میں خاک جھونکنے کے لئے پھر 29 / مارچ 1907ء کو اپنے پر چہ اہلحدیث میں لکھا:۔”مرزائیو! سچے ہو تو آؤ اور اپنے گرو کو ساتھ لا و۔۔۔انہیں ہمارے