احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 492
احمد یہ تعلیمی پاکٹ بک 492 حصہ دوم پاجانے کے بعد ا کثر منکر باقی رہتے ہیں۔چونکہ مولوی ثناء اللہ صاحب کے انکار از مباہلہ اور عدم منظوری کی وجہ سے مباہلہ وقوع میں نہ آیا۔اس لئے حضرت اقدس کا 15 اپریل 1907ء والا خط محض مباہلہ کے لئے ایک ڈرافٹ (مسودہ) کی حیثیت رکھتا ہے۔اور اس میں مذکورہ دعا صرف اس صورت میں فیصلہ کن اور نتیجہ خیز قرار دی جاسکتی تھی کہ مولوی ثناء اللہ صاحب اس طریق فیصلہ کو منظور کر لیتے۔لیکن انہوں نے منظور نہیں کیا۔پس اس خط والی تحریر کو اب زیر بحث لانا ہرگز درست نہیں۔یہ کوئی یکطرفہ دعائے ہلاکت نہ تھی اور نہ ہلاکت کی کوئی پیشگوئی تھی۔مولوی ثناء اللہ صاحب کو خود مسلّم ہے (جیسا کہ پہلے بیان ہوا) کہ یہ کسی وحی یا الہام کی بناء پر پیشگوئی نہیں لیکن عجیب بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے 14 اپریل 1907ء کے ایک الہام أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ “ کو معترضين اس خط سے متعلق قرار دے رہے ہیں۔حالانکہ اس الہام کا مطلب یہ تھا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق 14 اپریل 1907 ء سے پہلے جو کچھ لکھا جا چکا ہے اس کے مطابق اگر وہ اس فیصلہ پر مستعد ہوئے کہ جھوٹا بچے کی زندگی میں مرجائے تو وہ ضرور پہلے مریں گے۔مگر وہ تو اس پر مستعد ہی نہ ہوئے۔حالانکہ اس سے پہلے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ علم ہوا کہ وہ ایسے فیصلہ کے لئے تیار ہیں تو آپ نے اپنی کتاب اعجاز احمدی میں لکھا:۔”میں نے سنا ہے بلکہ مولوی ثناء اللہ امرتسری کی دستخطی تحریر میں نے دیکھی ہے جس میں وہ یہ درخواست کرتا ہے کہ میں ( ثناء اللہ ) اس طور کے فیصلہ کے لئے بدل خواہشمند ہوں کہ فریقین یعنی میں اور وہ یہ دعا کریں کہ جو شخص ہم دونوں میں سے جھوٹا ہے وہ بچے کی زندگی میں ہی مرجائے۔۔۔۔پس میں اس سے کوئی انکار نہیں کہ وہ ایسا چیلنج دیں۔بلکہ ہماری طرف سے ان کو اجازت ہے۔