احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 450 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 450

450 حصہ دوم احمدی تعلیمی پاکٹ بک واضح ہو کہ مولوی ندوی صاحب کو مسلّم ہے۔کہ وہ مکتوب جو انہوں نے نقل کیا ہے۔اس پر 24 /جنوری 1891 ء کی تاریخ درج ہے۔ملاحظہ ہو قادیانیت صفحہ 67۔تجویز قبول کر لینے کی دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ 1891ء کی تصنیف ”فتح اسلام میں :۔ہم پہلی مرتبہ ان کا یہ دعوی پڑھتے ہیں وہ مثیل مسیح اور مسیح موعود ہیں“۔مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب نے جو خط مسیح موعود علیہ السلام کولکھا ہے وہ آپ کے اس دعوی مسیح موعود پر اطلاع پانے کے بعد لکھا ہے۔اور اس اطلاع پر حضرت مولوی صاحب نے از خود یہ مشورہ دیا ہے کہ مشقی حدیث کے مصداق کو علیحدہ چھوڑ کر مثیل مسیح کا دعویٰ کیا جائے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب کو یہ لکھنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اب مثیل مسیح کا دعوی بطور مسیح موعود کر چکے تھے ورنہ مثیل مسیح کا دعوی علی الاطلاق تو اس سے بہت پہلے آپ براہین احمدیہ میں پیش کر چکے ہوئے تھے۔حضرت مولوی صاحب کا مشورہ یہ نہ تھا کہ آپ مثیل مسیح کا دعوی کریں بلکہ مشورہ یہ تھا کہ اپنے آپ کو دمشقی حدیث کا مصداق ظاہر نہ کریں۔یہ مشورہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے ہرگز قبول نہیں کیا۔اور مولوی ابوالحسن صاحب ندوی کا یہ لکھنا بالکل غلط ہے کہ :۔اچانک یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب نے حکیم صاحب کی اس تجویز کو قبول کرلیا۔( قادیانیت از ابوالحسن ندوی صفحه 70 بار اول مکتبہ دینیات لاہور ) پھر غور سے مکتوب پڑھیئے۔حضرت مولوی صاحب کے خط میں تجویز یہ نہیں تھی کہ مثیل مسیح کا دعوی کریں۔بلکہ تجویز یہ تھی کہ دمشقی حدیث کا اپنے تئیں مصداق ظاہر نہ کریں۔اور اسے چھوڑ کر مثیل مسیح یعنی مسیح موعود کا دعوی کریں۔دمشقی حدیث