احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 451
احمدیہ علیمی پاکٹ بک 451 حصہ دوم کا مصداق ظاہر کرنے پر حضرت مولوی صاحب کے نزدیک ابتلا کا ڈر تھا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس خط سے ظاہر ہے کہ آپ اس ابتلا سے نہیں ڈرے بلکہ اس کو ترقیات کا ذریعہ قراردیا ہے۔اسی وجہ سے تو مولوی ابوالحسن صاحب ندوی کو یہ لکھنا پڑا کہ:۔کی ہے“۔”مرزا صاحب نے حکیم صاحب کی پیشکش قبول کرنے سے معذرت خط کے منطوق سے معذرت ہی ظاہر ہوتی ہے۔جس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ نے مشورہ قبول نہیں کیا۔اب اگر بقول مولوی ابوالحسن صاحب ندوی فتح اسلام کی اشاعت کے وقت آپ نے حضرت مولوی صاحب کا مشورہ قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا۔پھر چاہیے تو یہ تھا کہ آپ 1891ء میں اپنے آپکو مشقی حدیث کا مصداق قرار نہ دیتے۔لیکن ہم اسکے برعکس یہ دیکھتے ہیں کہ 1891ء کی تصنیف ازالہ اوہام میں آپ نے دمشقی حدیث کا اپنے تئیں مصداق قرار دیا ہے۔جس پر ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 134-135 کا حاشیہ شاہد ناطق ہے۔ذیل کا اقتباس ملاحظہ ہو:۔صحیح مسلم میں یہ جولکھا ہے کہ حضرت مسیح مشق کے مینارہ سفید شرقی کے پاس اترینگے دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پر منجانب اللہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس جگہ ایسے قصبہ کا نام دمشق رکھا گیا ہے جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزید الطبع اور یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیرو ہیں۔آگے ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 حاشیہ صفحہ 138 پر لکھتے ہیں :۔قادیان کی نسبت مجھے یہ بھی الہام ہوا کہ أُخْرِجَ مِنْهُ الْيَزِيدِيُّون یعنی اس میں یزیدی لوگ پیدا کئے گئے ہیں۔