احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 437
احمدی تعلیمی پاکٹ بک 437 حصہ دوم دے چکا ہوں کہ ہم آئندہ ان لوگوں کو مخاطب نہیں کریں گے جب تک خودان کی طرف سے تحریک نہ ہو۔بلکہ اس بارے میں ایک اشتہار بھی شائع کر چکا ہوں جو میری کتاب آئینہ کمالات اسلام میں درج ہے۔۔۔۔مجھے یہ بھی افسوس ہے کہ ان لوگوں نے محض شرارت سے یہ بھی مشہور کیا ہے کہ اب الہام کے شائع کرنے کی ممانعت ہو گئی اور ہنسی سے کہا کہ اب الہام کے دروازے بند ہو گئے۔مگر ذرہ حیاء کو کام میں لا کر سوچیں کہ اگر الہام کے دروازے بند ہو گئے تھے تو میری بعد کی تالیفات میں کیوں الہام شائع ہوئے۔اسی کتاب تریاق القلوب کو دیکھیں کہ کیا اس میں الہام کم ہیں“۔تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 314 حاشیہ ) پھر اس معاہدہ سے چھ سال قبل حضور نے تحریر فرمایا:۔اس عاجز نے اشتہار 20 فروری 1886ء میں۔۔۔۔اندر من مراد آبادی اور لیکھر ام پشاوری کو اس بات کی دعوت کی تھی کہ اگر وہ خواہشمند ہوں تو ان کی قضاء وقدر کی نسبت بعض پیشگوئیاں شائع کی جائیں۔سواس اشتہار کے بعد اندرمن نے تو اعراض کیا اور کچھ عرصہ کے بعد فوت ہو گیا۔لیکن لیکھرام نے بڑی دلیری سے ایک کارڈ اس عاجز کی طرف روانہ کیا کہ میری نسبت جو پیشگوئی چا ہو شائع کر دو میری طرف سے اجازت ہے“۔(اشتہار 20 فروری 1893 تبلیغ رسالت جلد 3 صفحہ 4 مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 304) پھر 20 فروری 1899 ء کے اشتہار میں یعنی معاہدہ عدالت کے چار دن پہلے سے جو 24 فروری 1899ء کو ہوا تحریر فرماتے ہیں:۔”میرا ابتداء ہی سے یہ طریق ہے کہ میں نے کبھی کوئی انداری