احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 369 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 369

احمد یہ تعلیمی پاکٹ بک 369 حصہ دوم مراد کنجریوں کی اولاد نہیں کیونکہ محل مجازی استعمال کا ہے۔جیسے حضرت امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں:۔مَنْ شَهِدَ عَلَيْهَا بِالزِّنَاءِ فَهُوَوَلَدُ الزِّنَاءِ ( کتاب الوصیت مطبوعہ حیدرآباد صفحه 39) کہ جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر زنا کی تہمت لگائے وہ ولد الزنا یعنی حرام زادہ ہے۔اس جگہ یہ الفاظ بھی بطور مجاز کے ہیں یعنی وہ شخص روحانیت سے محروم ہے۔فرزند اسلام نہیں۔ذرية البغایا کے الفاظ انہیں معنوں میں حضرت امام ابو جعفر علیہ السلام نے استعمال فرمائے ہیں۔چنانچہ ابوحمزہ سے مروی ہے:۔عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ قُلْتُ لَهُ إِنَّ بَعْضَ أَصْحَابِنَا يَفْتَرُونَ وَيَقْذِفُونَ مَنْ خَالَفَهُمْ فَقَالَ الْكَقُ عَنْهُمْ اَجْمَلُ ثُمَّ قَالَ وَاللهِ يَا اَبَا حَمْزَةَ! إِنَّ النَّاسَ كُلُّهُمْ اَوْلَادُ بَغَايَا مَا خَلَا شِيعَتِنَا “ (فروع كافى جلد 3 كتاب الروضة صفحه 135 مطبوعہ نول کشور ) ابوحمزہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت باقر علیہ السلام سے کہا کہ بعض لوگ اپنے مخالفین پر افتراء باندھتے اور بہتان لگاتے ہیں۔آپ نے فرمایا ایسے لوگوں سے بچ کر رہنا اچھا ہے۔پھر آپ نے فرمایا۔اے ابوحمزہ ! خدا کی قسم ہمارے گروہ کے سوا باقی تمام لوگ اولاد بغایا ہیں۔مراد یہ ہے کہ دشمنانِ اہلِ بیت سرکش ہیں۔اخبار مجاہد لا ہور 3 مارچ 1936ء میں لکھا گیا تھا کہ:۔/ / ولد البغایا ، ابن الحرام اور ولد الحرام ، ابن الحلال بنت الحلال