احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 370 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 370

ندی علیمی پاکٹ بک 370 حصہ دوم وغیرہ۔یہ سب عرب کا اور ساری دنیا کا محاورہ ہے جو شخص نیکوکاری کو ترک کر کے بدکاری کی طرف جاتا ہے اس کو باوجود یکہ اس کا حسب ونسب درست ہو۔صرف اعمال کی وجہ سے ابن الحرام ولد الحرام کہتے ہیں۔اس کے خلاف جو نیک کار ہوتے ہیں۔ان کو ابن حلال کہتے ہیں۔اندریں حالات امام علیہ السلام کا اپنے مخالفین کو اولاد بغایا کہنا بجا اور درست ہے“ پس آئینہ کمالات اسلام کی عبارت میں ذریۃ البغایا سے مراد ہدایت سے دور یا سرکش انسان ہی ہیں نہ کہ حقیقت میں کنجریوں کی اولاد عربی زبان میں بغیه رشد کی نقیض ہے ملاحظہ ہو لسان العرب۔بغی کے معنی لونڈی کے بھی ہیں فاجرہ ہو یا نہ۔(ب) نجم الهدی کے شعر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مد نظر مسلمان مخالفین نہیں بلکہ مراد اعداء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔آپ لکھتے ہیں:۔" بے شک دشمن (نہ کہ مخالفین ) جنگل کے سور بن گئے اور اُن کی وو عورتیں ایسی ہیں کہ کتیاں بھی اُن سے کم تر “۔اگلا شعر اس پر قرینہ ہے۔چنانچہ لکھتے ہیں:۔سَبُوا وَ مَا أَدْرِى لِأَيِّ جَرِيمَةٍ سَبُّوا أَنعُصِى الْحِبَّ اَوْ نَتَجَنَّبُ کہ اُنہوں نے گالیاں دی ہیں (رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ) اور میں نہیں جانتا کہ آپ کے کس جرم کی وجہ سے ایسا کیا ہے۔انہوں نے گالیاں تو دی ہیں تو کیا ہم اپنے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے نافرمان ہو جائیں گے۔یعنی ان کے اعتراضوں اور گالیوں سے ایسا ہونا محال ہے کہ ہم ان کی گالیوں کی وجہ سے کنارہ کش ہو جائیں۔صاف ظاہر ہے کہ ان شعروں میں وہ لوگ مُراد نہیں جو مسلمانوں میں سے آپ کے مخالف ہیں بلکہ وہ غیر مسلم مرد اور عورتیں مراد ہیں۔جو