احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 343
_3 ندی علیمی پاکٹ بک 343 حصہ دوم دعوت پہنچی ہے۔اور اُس نے مجھے قبول نہیں کیا ہے وہ مسلمان نہیں ہے“۔( الذكر الحکیم نمبر 2 صفحہ 24) کفر دو قسم پر ہے۔(اول ) ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔( دوم ) دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود تمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے کافر ہے۔اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔کیونکہ جو شخص باوجود شناخت کر لینے کے خدا اور رسول کے حکم کو نہیں مانتا وہ بموجب نصوص صریحہ قرآن اور حدیث کے خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 185-186) افسوس ہے کہ ابوالحسن صاحب ندوی نے اگلی عبارت درج نہیں کی جو آپ کے مذہب کی وضاحت کرتی ہے۔اور وہ یہ ہے:۔”اس میں شک نہیں کہ جس پر خدا تعالیٰ کے نزدیک اول قسم کفریا دوسری قسم کفر کی نسبت اتمام حجت ہو چکا ہے وہ قیامت کے دن مؤاخذہ کے لائق ہوگا۔اور جس پر خدا کے نزدیک اتمام حجت نہیں ہوا اور وہ مکذب اور منکر ہے تو گوشریعت نے (جس کی بناء ظاہر پر ہے ) اس کا نام بھی کافر ہی رکھا ہے اور ہم بھی اس کو باتباع شریعت کافر کے نام سے ہی پکارتے ہیں۔مگر پھر بھی وہ خدا کے نزدیک بموجب آیت لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا قابل مواخذہ نہیں ہوگا۔ہاں ہم اس بات کے مجاز نہیں ہیں کہ ہم اس کی