احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 312 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 312

احمدیہ علیمی پاکٹ بک 312 حصہ دوم اس حدیث میں مریض کی عیادت نہ کرنے اور سائل کو کھانا کھلانے اور پانی پلانے سے رکنے کو استعارہ کے طور پر یوں بیان کیا گیا ہے کہ گویا انسان کی بجائے خدا کی تیمار درای نہیں کی گئی اور اسے کھانا نہیں کھلایا گیا اور اسے پانی نہیں پلایا گیا۔الهام نمبر 7 : أَسْهَرُ وَأَنَامُ میں بیدار ہوتا ہوں اور سو بھی جاتا ہوں“۔تشریح :۔یہ الہام بھی بطور مجاز اور استعارہ کے ہے۔خدا تعالی در حقیقت سونے سے پاک ہے۔اس جگہ سونے سے یہ مراد ہے کہ خدا تعالیٰ بعض گنہگاروں سے چشم پوشی کرتا ہے۔اور مراد جاگنے سے یہ ہے کہ بعض اوقات سزا بھی دیتا ہے۔الهام نمبر 8: أُخْطِئُ وَأصِيبُ تشریح:۔خدا تعالیٰ خطا کرنے سے پاک ہے۔اس جگہ اُخْطِئُ کا لفظ مجازی استعمال ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس الہام کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ:۔" اپنے ارادہ کو کبھی چھوڑ بھی دوں گا۔اور کبھی ارادہ پورا کروں گا۔جیسا کہ احادیث میں لکھا ہے کہ میں مومن کے قبض روح کے وقت تر ڈد میں پڑتا ہوں۔حالانکہ خدا تر ڈد سے پاک ہے۔اسکے یہ معنے ہیں کہ کبھی میں اپنی تقدیر اور ارادہ کو منسوخ کر دیتا ہوں۔اور کبھی وہ ارادہ جیسا کہ چاہا ہوتا ہے۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 106 وحاشیہ صفحہ 106) اوپر کے اقتباس میں جس حدیث کی طرف اشارہ ہے اس کے الفاظ یہ ہیں:۔"وَمَا تَرَدْدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِى عَنْ نَفْسٍ الْمُؤْمِنِ “۔(صحیح بخاری کتاب الرقاق باب التواضع