احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 313 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 313

احمد یہ تعلیمی پاکٹ بک 313 حصہ دوم یعنی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے کسی شے متعلق کبھی اتنا ر ڈ نہیں کیا جتنا ایک مومن کی روح قبض کرنے کے وقت مجھے تر ڈر ہوتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ خدا تردد سے پاک ہے اور مراد اس جگہ تر ڈو سے ملتی جلتی حالت ہچکچاہٹ ہے نہ کہ در حقیقت شک وشبہ۔قرآن مجید میں خدا تعالیٰ نے اپنی طرف نسیان کو بھی منسوب کیا ہے۔جیسے فرمایا:۔فَالْيَوْمَ نَنْسُهُمْ كَمَا نَسُوا لِقَاءَ يَوْمِهِمْ هَذَا - (الاعراف: 52) کہ آج ہم انہیں بھلا دیں گے جیسا کہ انہوں نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلا دیا۔اللہ تعالیٰ خطاء اور نسیان سے پاک ہے۔اس جگہ مجاز انسیان سے ملتی جلتی حالت مراد ہے۔یعنی بھولنے کا نتیجہ چھوڑ دینا مراد ہے۔یعنی بے تعلقی اور اپنے قرب سے محروم رکھنا۔پس جو الہامات از قسم متشابہات ہوں ان کا مفہوم محکمات کے مطابق لینا چاہیے اور مجاز کو حقیقت پر محمول کرنا بد ذوقی کی علامت ہوگی۔الہام نمبر 2: يَحْمَدُكَ اللَّهُ مِنْ عَرُشِهِ تشریح :۔معترض کہتا ہے کہ حمد کا لفظ خدا کے سوا کسی پر نہیں بولا جاتا ہے لیکن عجیب بات ہے کہ خدا تعالیٰ مرزا صاحب کی حمد کرتا ہے۔الجواب :۔یہ معترض کی ناواقفی ہے کہ حد کا لفظ خدا کے سواکسی کے لئے استعمال نہیں ہوتا ”حمد سچی تعریف کو کہتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محمد ہے۔صفاتی لحاظ سے اس کے معنے ہیں بہت حمد کیا گیا۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک مقام کے بارہ میں فرمایا ہے:۔علَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا۔(بنی اسرائیل: 80) یعنی قریب ہے کہ تیرا رب تجھے ایک قابل حمد مقام پر کھڑا کرے۔