احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 145 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 145

تعلیمی پاکٹ بک 145 حصہ اول امام سیوطی نے الجامع الصغیر میں اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔ذیل کی روایات بالمعنی اس کی تشریح کرتی ہیں۔1 - لَوْ لَمْ أُبْعَثْ لَبُعِثْتَ يَاعُمَرُ - ( مرقاۃ شرح مشکوۃ جلد 5 صفحہ 539 و حاشیہ مشکوۃ مجتبائی باب مناقب) ترجمه : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں مبعوث نہ کیا جاتا تو اے عمر تو مبعوث کیا جاتا۔یہ حدیث صحیح ہے۔(دیکھو تعقبات سیوطی صفحہ 671) لَوْ لَمْ أُبْعَثُ فِيْكُمْ لَبُعِثَ عُمَرُ فِيْكُمْ - ( كنوز الحقائق جلد 2 صفحہ 73 حاشیہ ) یعنی اگر میں تم میں مبعوث نہ ہوتا تو عمر تم میں مبعوث ہوتا۔پس چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہوکر مبعوث ہو گئے اس لئے حضرت عمرؓ نبی نہ بنے۔یہی مفہوم ترمذی کی حدیث کا ہے کہ اگر میں نبی نہ بنایا جا تا تو پھر حضرت عمرؓ کا حق تھا کہ وہ نبی بنائے جاتے۔نوٹ: مسیح موعود کو تو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی قرار دیا ہے اور امتی بھی۔ترندی کی حدیث میں امتی نبی کا وجود زیر بحث نہیں بلکہ تشریعی نبی کا وجود زیر بحث ہے۔تشریعی نبوت یہاں اس لئے مراد ہے کہ روایات بالمعنی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما دیا ہے کہ اگر میں مبعوث نہ ہوتا تو حضرت عمر مبعوث ہوتے چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریعی نبی تھے اس لئے اگر آپ مبعوث نہ ہوتے تو حضرت عمرؓ تشریعی نبی کے طور پر ہی مبعوث ہوتے۔حدیث پنجم إِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ۔(صحیح بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب ماذكر عن بنی اسرائیل)