احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 521
احمدیہ علیمی پاکٹ بک 521 حصہ دوم ہو جانے پر آپ پہلے عقیدہ اور عمل کو بدل دیتے تھے۔ایسی تبدیلی پر تحویل قبلہ شاہد ناطق ہے اب اگر کوئی تحویل قبلہ کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عقائد اور اعمال میں تناقض قرار دے تو وہ ظالم ہوگا۔کیونکہ آپ کے پہلے عقیدہ اور عمل میں تبدیلی وحی سے ہوئی تھی اس لئے خدا کی وحی سے جو تبدیلی عقیدہ اور عمل میں پیدا ہو تو وہ تبدیلی حقیقی تناقض کے ذیل میں نہیں آتی جو قابلِ اعتراض ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود اس اعتراض کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں :۔میں نے براہین میں جو کچھ مسیح بن مریم کے دوبارہ دنیا میں آنے کا ذکر لکھا ہے وہ ذکر صرف ایک مشہور عقیدہ کے لحاظ سے ہے جس کی طرف آج کل ہمارے مسلمان بھائیوں کے خیالات جھکے ہوئے ہیں۔سواسی ظاہری اعتقاد کے لحاظ سے میں نے براہین میں لکھ دیا تھا کہ میں صرف مثیل موعود ہوں اور میری خلافت صرف رُوحانی خلافت ہے۔لیکن جب مسیح آئے گا تو اس کی ظاہری اور جسمانی دونوں طور پر خلافت ہوگی۔یہ بیان جو براہین میں درج ہو چکا ہے صرف اس سرسری پیروی کی وجہ سے ہے جو ملہم کو قبل از جو انکشاف اصل حقیقت اپنے نبی کے آثار مرویہ کے لحاظ سے لازم ہے کیونکہ جو لوگ خدائے تعالیٰ سے الہام پاتے ہیں وہ بغیر بلائے نہیں بولتے اور بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری نہیں کر سکتے۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 196-197)