احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 32 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 32

تعلیمی پاکٹ بک 32 حصہ اول پس اللہ تعالیٰ نے مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ کہہ کر اس کے بعد معاملہ کو یہود پر مشتبہ قرار دے کر صاف طور پر بتا دیا ہے کہ یقینی بات یہی ہے کہ مسیح کو قتل وصلیب سے بچالیا گیا ہے اور اس واقعہ کے متعلق جس قدر بھی اختلافات ہیں جن سے لوگوں پر حضرت مسیح کا معاملہ مشتبہ ہو گیا ہے وہ محض اٹکل پچو خیالات کا نتیجہ ہیں ان کی بنیاد کسی یقینی بات پر نہیں۔گویا یہودیوں اور عیسائیوں کے تمام اختلافات کو اس آیت کے ذریعہ مردود قرار دیا گیا ہے کہ مسیح کی موت واقع ہوگئی یا کوئی دوسرا آدمی اُن کا ہم شکل صلیب پر مارا گیا۔اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مَا قَتَلُوهُ يَقِينًا کہہ کر مسیح کے مارا جانے کے بارہ میں یہودیوں وغیرہ کے خیالات کو قطعاً غلط قراردے دیا ہے۔مَا قَتَلُوهُ يَقِينا کے دو معانی ہو سکتے ہیں۔اول یہ کہ یہودیوں نے مسیح کو یقینا قتل نہیں کیا۔اس جگہ یہ نہیں کہا کہ انہوں نے کسی دوسرے شخص کو قتل کیا ہے۔یہ معنی لفظ قتل کے حقیقی معنی کے لحاظ سے ہیں لیکن اس آیت میں قتل کے مجازی معنی بھی مراد لیے گئے ہیں یعنی پورے طور پر جاننا۔چنانچہ مفردات راغب میں لکھا ہے۔مَا قَتَلُوهُ يَقِيناً أَي مَا عَلِمُوا كَوْنَهُ مَصْلُوباً عِلْماً يَقِيناً۔یعنی حضرت مسیح کے مصلوب ہونے کو انہوں نے یقینی علم کے ساتھ نہیں جانا یہ معنی بھی اختلافات کے وہم ہونے پر بطور دلیل موزوں معنی ہیں۔اب رہ گئی یہ بات کہ مولوی ابراہیم صاحب کا یہ قاعدہ نحو اس جگہ کیوں چسپاں نہیں ہو سکتا؟ سو اس کی وجہ یہ ہے کہ منفی جملہ کے بعد جب وَلكِن آجائے تو پہلے فعل کو مثبت صورت میں اُس وقت محذوف مانا جاتا ہے جبکہ اس کے بعد جملہ خبریہ نہ ہو بلکہ مفرد ہو یا مرکب ناقص ہو یا ایسا جملہ ہو جو بحکم مفرد ہو جیسے جملہ انشائیہ مقولہ کے طور پر واقع ہو۔