احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 480
480 حصہ دوم یہ زلزلہ 1914ء میں آ گیا اور تین سال تک جاری رہا۔دیکھو یہ خدا کا کتنا عظیم الشان نشان ہے۔جس میں زار روس کی تباہی کی پیشگوئی نہایت صفائی سے پوری ہو گئی۔اک نشاں کافی ہے گر دل میں ہو خوف کر دگار ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں اعتراض نمبر 18 مرزا صاحب نے کہا تھا کہ:۔ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں مگر اُن کی وفات لاہور میں ہوئی۔لہذا یہ کتنا جھوٹ ہوا کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں“۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کوئی قول نہیں بلکہ الہام ہے۔اس دن تین الہام ہوئے :۔(1) كَتَبَ اللَّهُ لَا غُلِبَنَّ أَنَا وَ رُسُلِي (2) سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبِّ رَّحِيم (3) ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔ان کے ترجمہ اور تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام لکھتے ہیں:۔-1 " خدا نے ابتداء سے مقدر کر چھوڑا ہے کہ وہ اور اس کے رسول غالب رہیں گئے۔