احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 305 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 305

ندی تعلیمی پاکٹ بک 305 حصہ دوم عربی زبان کا ایک شاعر عمر بن شاس اپنی بیوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے:۔إِنْ كُنْتِ مِنِّى أَوْ تُرِيدِينَ صُحْبَتِي فَكُوْنِي لَهُ كَالسَّمْنِ رُبَّتُ لَهُ الْآدَمُ (حماسه مجتبائی صفحه (77) اس جگہ اِنْ كُنتِ مِنی کے یہ معنی ہیں۔اگر تو مجھ سے موافقت رکھتی ہے۔مطلب شعر کا یہ ہے کہ اگر تو مجھ سے موافقت رکھتی ہے اور میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو میرے پہلے بیٹے کے ساتھ اچھی طرح مل جل کر رہ۔قرآن مجید میں ہے کہ طالوت نے اپنے لشکروں سے کہا کہ :۔فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَمَنْ لَّمْ يَطْعَمُهُ فَإِنَّهُ مِنِّى - (البقرة: 250) ترجمہ :۔جو شخص اس نہر سے پئے گا۔وہ مجھ سے نہیں یعنی میرے مقاصد سے اتحاد نہیں رکھتا۔اور جس نے اس سے نہ پیا تو بے شک وہ مجھ سے ہے یعنی میرے ساتھ متحد ہے۔قرآن مجید میں دوسری جگہ ہے کہ حضرت ابرہیم علیہ السلام نے فرمایا :۔فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّى - (ابراهيم: 37) یعنی جو شخص میری اتباع کرے گا وہ مجھ سے ہے یعنی میرے ساتھ مقاصد میں اتحاد رکھتا ہے۔پس ”من اتصالیہ اتحاد کا مفہوم رکھتا ہے اور یہی مفہوم زیر بحث الہام میں مراد ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جماعت کو تلقین فرماتے ہیں:۔وو وہ یقین کریں کہ ان کا ایک قادر اور قیوم اور خالق الکل خدا ہے جو اپنی صفات میں ازلی ابدی اور غیر متغیر ہے نہ وہ کس کا بیٹا نہ کوئی اس کا بیٹا۔کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 10 )