احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 187
تعلیمی پاکٹ بک 187 حصہ اول طاعون کے عنوان سے 17 مارچ 1901ء کو شائع فرمایا جس میں اپنی مذکورہ بالا پیشگوئی یاد دلانے کے بعد حضور نے لکھا:۔”سواے عزیزو! اسی غرض سے پھر یہ اشتہار شائع کرتا ہوں کہ سنبھل جاؤ اور خدا سے ڈرو اور ایک پاک تبدیلی دکھلاؤ تا خدا تم پر رحم کرے اور وہ بلا جو بہت نزدیک آ گئی ہے خدا اس کو نابود کرے۔اے غافلو ! یہ نسی اور ٹھٹھے کا وقت نہیں ہے۔یہ وہ بلا ہے جو آسمان سے آتی اور صرف آسمان کے خدا کے 66 حکم سے دور ہوتی ہے۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 500۔اشتہار مورخہ 17 مارچ 1901ء) آخر جب آپ کی ان تنبیہات سے لوگوں نے کچھ فائدہ نہ اٹھایا اور نہ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ نہ ہوئے بلکہ اپنی سرکشی اور بے باکی میں۔بڑھتے گئے تو خدائے ذوالجلال کا غضب اور بھڑ کا اور 1902ء میں طاعون نے اس قدر زور پکڑا کہ لوگ کتوں کی طرح مرنے لگے اور گھروں کے گھر خالی ہو گئے اور لاشیں گھروں میں سڑنے لگیں کیونکہ طاعون کی دہشت کی وجہ سے کوئی انہیں اٹھا کر دفن کرنے کی جرات نہ کرتا تھا اور جو جرات کرتا بھی تھا تو وہ کثرت وشدت مرض کی وجہ سے ایک انار اور صد بیمار کا مصداق ہوتا تھا۔یہ حالات دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رحیم و کریم دل میں پھر خلق خدا کی بھلائی نے جوش مارا اور ایک مرتبہ پھر حضور نے ہدایات الہیہ کی روشنی میں دافع البلاء ومعیار اہل الاصطفاء کے نام سے ایک رسالہ شائع فرمایا جس میں ایک تو ظاہری صفائی کی تلقین فرمائی اور دوسرے طاعون کے حملوں کے اصل اور حقیقی علاج کی طرف توجہ دلائی کہ وہ لوگ اپنے گناہوں اور شرارتوں سے تو بہ کر کے اپنے خالق و مالک حقیقی سے بچی صلح کریں۔اسی کتاب میں آپ نے لوگوں کو وہ الہام بھی