احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 105
تعلیمی پاکٹ بک 105 حصہ اول بلکہ آخری شارع اور آخری مستقل نبی ہونے کا مفہوم رکھتی ہے اور اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع نبی پیدا ہوسکتا ہے اس سے خاتمیت مرتبی بھی قائم رہتی ہے اور خاتمیت زمانی بھی اور اجتماع النقيضين لازم نہیں آتا جو محال ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان دَنی فَتَدَلَّی کی تفسیر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کائنات کا نقطہ ء مرکز یہ قرار دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: 1 بجز ایک نقطہ مرکز کے اور جس قدر نقاط وتر ہیں ان میں دوسرے انبیاء ورسل وارباب صدق وصفا بھی شریک ہیں اور نقطہ مرکز اس کمال کی صورت ہے جو صاحب وتر کو بہ نسبت جمیع دوسرے کمالات کے اعلیٰ وارفع واخص وممتاز طور پر حاصل ہے جس میں حقیقی طور پر مخلوق میں سے کوئی اس کا شریک نہیں ہاں احتباع و پیروی سے ظلمی طور پر شریک ہوسکتا ہے۔اب جاننا چاہئے کہ دراصل اسی نقطہ وسطی کا نام حقیقت محمدیہ ہے جو اجمالی طور پر جمیع حقائق عالم کا منبع واصل ہے۔غرض سر چشمه رموز غیبی و مفتاح کنوز لا ریبی اور انسان کامل دکھلانے کا آئینہ یہی نقطہ ہے اور تمام اسرار مبدء ومعاد کی علت غائی اور ہر یک زیر و بالا کی پیدائش کی لیمیت یہی ہے جس کے تصور بالکنہ وتصور بکنہ سے تمام عقول و افہام بشریہ عاجز ہیں اور جس طرح ہر یک حیات خدائے تعالیٰ کی حیات سے مستفاض اور ہر یک وجود اس کے وجود سے ظہور پذیر اور ہر یک تعین اس کے تعین سے خلعت پوش ہے ایسا ہی نقطہ محمد یہ جمیع مراتب اکوان اور خطائر امکان میں باذنه تعالی حسب استعدادات مختلفه وطبائع متفاوته مؤثر ہے۔سرمہ چشم آریہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 267 تا 271 حاشیہ )