احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 75
تعلیمی پاکٹ بک 75 حصہ اول جان سے مارڈالنے کی تھی اور وہ دو طرح سے تھی :۔(1) سنگسار کرنا۔(2) تلوار سے قتل کرنا۔اس لیے قرآن مجید میں دونوں قسموں کی موت سے انکار ہوا ہے کہ نہ تو حضرت عیسی کو پتھراؤ کر کے یا تلوار سے مارا اور نہ صلیب پر چڑھا کے مارا۔یہ بات یا درکھنی چاہیے کہ یہود کا ایسا بیان ہے کہ پہلے حضرت عیسی سنگسار کر لئے گئے۔چنانچہ یہود کی کتاب شنا اور تالمود یوروشلم اور تالمود بائبل سنہد ریم کے بیان میں ایسا ہی لکھا ہے (دیکھوار بسط بیان کا تذکرہ مسیح باب 25 صفحہ 284) اور عیسائیوں کا بیان ہے کہ وہ صلیب پر مارے گئے اس لئے قرآن میں ان دونوں باتوں پر اشارہ ہے وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ یعنی قتل بذریعہ سنگساری ہوا اور نہ قتل بذریعہ صلیب ہوا۔نہ یہ کہ وہ مطلق صلیب پر چڑھائے ہی نہیں گئے کیونکہ مطلق صلیب کی نفی کچھ مفید نہیں ہے کیونکہ صلیب پر ہاتھوں میں میخ ٹھوکنے اور پیر باندھ دینا اور پھر تین گھنٹے بعد اُتار لینا مار ڈالنے کیلئے کافی نہیں ہے بلکہ تصلیب کی نفی سے صلیبی موت مراد ہے۔وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ مگر صورت بنادی گئی اور اس طور کہ حضرت عیسی ان لوگوں کو جو صلیب کا اہتمام کر رہے تھے مُردہ نظر آئے کیونکہ وہ تمام شب کے جاگنے اور صدمات کی برداشت اور میخوں کی اذیت سے غشی یا بے ہوشی میں آگئے تھے۔اس سے انہوں نے سمجھا کہ یہ مر گئے مگر چونکہ اس وقت موسم اچھا تھا یعنی ابر چھا رہا تھا (متی 27/45۔مارق 10/23 لوق 23/44) دھوپ کی تکلیف نہ تھی اور پھر وہ جلدی ہی اُتار لئے گئے اس وجہ سے زیادہ صدمہ نہیں پہنچا۔