احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 74
74 حصہ اول تعلیمی پاکٹ بک يَخْفى أَنَّ مَرْجِعَ الْعُلُومِ الْإِسْلَامِيَّةِ۔۔۔۔۔هُوَ الْقُرْآنُ الْعَظِيمُ وَلَيْسَ فِيْهِ آيَةٌ تَدُلُّ صَرَاحَةً عَلَى أَنَّ عِيسَى لَمْ يَمُتُ وَأَنَّهُ حَيٌّ سَيَنزِلُ إِلَّا الْإِسْتِنْبَاطَاتِ وَتَفْسِيرَاتِ مِنَ الْبَعْضِ وَلَا يَخْلُو ذِلِكَ مِنْ شَكُورٍ وَشُبَهِ وَمَا كَانَ بِهِذِهِ الْمَثَابَةِ كَيْفَ يُمْكِنُ أَنْ نَتَّخِذَهُ مَبُنى بِعَقِيدَةٍ إِسْلَامِيَّةٍ۔الهام الرحمان فى تفسير القرآن الجزء الثاني زير تفسير سورة آل عمران : 56 (3 ترجمه : مُتَوَفِّیک کے معنی ہیں میں تجھے موت دوں گا۔اور عیسی علیہ السلام کی زندگی کے بارہ میں جو کچھ لوگوں میں مشہور ہے وہ ایک یہودی اور صابی افسانہ ہے۔۔۔یہ بات مخفی نہیں کہ علوم اسلامی کا مرجع قرآن عظیم ہے اور اس میں ایک آیت بھی ایسی نہیں جو صراحت کے ساتھ ثابت کرتی ہو کہ عیسی علیہ السلام نے وفات نہیں پائی اور کہ وہ زندہ ہیں اور عنقریب نازل ہوں گے۔سوائے ( بعض لوگوں کے ) استنباط اور استدلالات اور تفاسیر کے اور یہ آراء و استدلالات شک وشبہ سے بالا نہیں ہیں۔پس ان کو ایک اسلامی عقیدہ کی بنیاد کس طرح مانا جاسکتا ہے۔3 نواب اعظم یار جنگ مولوی چراغ علی صاحب لکھتے ہیں۔وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ۔دو طرح سے آدمیوں کو مار ڈالنے کا دستور تھا۔ایک صلیب پر لٹکا رہنے دینے سے۔یہ سزاسنگین جرائم کے مرتکبوں اور غلاموں کو دی جاتی تھی۔جو تین چار روز صلیب پر لٹکے ہوئے بھوک پیاس کی شدت اور زخموں کے درد اور دھوپ کی تپش اور دورانِ خون کی سُوء مزاجی سے مرجاتے تھے اور دوسری قسم دفعہ