احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 53 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 53

تعلیمی پاکٹ بک 53 حصہ اول (2) اهلاک بر وزن افعال مصدر مزید فیہ کے معنے عذاب سے تباہ و برباد کرنا ہوتے ہیں نہ کہ محض وفات دینا۔البتہ ہلاکت کے معنی جو مصدر ثلاثی مجرد ہے وفات کے ہوتے ہیں۔اھلاک کا یہ استعمال قرآن و احادیث کے محاورہ سے ثابت ہے لہذا اس آیت کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ مسیح اور اس کی والدہ اور رُوئے زمین کے سب لوگوں کو عذاب میں مبتلا کرنا چاہے تو اسے کون روکنے کی قدرت رکھتا ہے پس اس طرح جب خود حضرت مسیح اور حضرت مریم اور روئے زمین کے تمام لوگ خدا تعالیٰ کی قدرت کے مقابلہ میں عاجز ہیں اور اس کے افعال میں روک نہیں ہو سکتے تو پھر ایک عاجز انسان کو خدا کا مقام اور اس کی والدہ کو خدا کی ماں کا مقام دینا کفر نہیں تو اور کیا ہے اس طرح خدا تعالیٰ نے اس آیت میں تو عیسائیوں کو سمجھایا ہے کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق ایسے کفریہ عقائد سے باز آجائیں۔عیسائی اس کے جواب میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ خدا تعالیٰ مسیح کو عذاب میں مبتلا کرنے پر قادر نہیں جب کہ وہ یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ مسیح مصلوب ہوا اور صلیبی موت کا مسیح کے لئے ما نالا محالہ اہلاک و تعذیب کی صورت ہے جو عیسائیوں کو پہلے سے مسلّم ہے۔5 وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ (الزخرف : 62) ترجمہ: یقیناً قرآن البتہ قیامت کا علم دینے والا ہے پس تم قیامت میں شک نہ کرو اور میری پیروی کرو۔اس آیت میں انگہ کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے حضرت مسیح کو قرار دے کر یہ معنی کئے ہیں کہ حضرت مسیح قیامت کی نشانی ہیں یعنی وہ زندہ ہیں اور قیامت سے پہلے دوبارہ آئیں گے۔یہ معنی بدیں وجوہ باطل ہیں۔