احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 46 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 46

تعلیمی پاکٹ بک 46 حصہ اول حقیقت کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔دیکھئے موت جسم و روح کے مجموعہ پر وارد ہوئی اسکے بعد قبر میں صرف جسم کو رکھا جاتا ہے اور اگر برزخی قبر مراد ہو تو اس میں صرف روح کو رکھا جاتا ہے نہ کہ جسم مادی مع الروح کو۔مولوی ابراہیم صاحب کا آخری نکتہ یہ ہے کہ: چونکہ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ میں رفع کو بصیغہ ماضی تعبیر کیا ہے اور ظاہر ہے کہ زمانہ کی ماضویت واستقبال اضافی امور سے ہے ذاتی نہیں یعنی ایک ہی زمانہ بنسبت ایک کے ماضی ہو سکتا ہے اور بنسبت دوسرے کے استقبال۔اس لئے رفع کی ماضویت بھی کسی کی نسبت سے ہوگی اور وہ ماقبل بل ہے یعنی واقعہ صلیبی۔۔۔۔اور چونکہ واقعہ صلیبی کے پیشتر حیات مسیح علیہ السلام عند انخصم بھی مسلم ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے جہدِ حضرت روح اللہ کو آسمان پر زندہ اٹھالیا اور یہود کے ہاتھ میں ہر گز نہ آنے دیا اور یہی امتنان باری آیه وافي هدايه "وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِی اِسْرَاعِيلَ عَنْكَ “ میں مذکور ہے۔شهادة القرآن صفحه 166 167) الجواب: 66 آیت بَلْ أَفَعَهُ اللهُ مِیں رَفَع کی ماضویت کا اضافی ہونا ہمیں مسلّم ہے مگر رفع کی ماضویت کی اضافت اس جگہ واقعہ صلیبی سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے قرآنی بیان وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ سے ہے اور خدا تعالیٰ کے اس بیان میں کہ میسی مقتول اور مصلوب نہیں ہوا اس بیان سے پہلے پہلے مسیح کا رفع الی اللہ ہو جانا بیان ہوا ہے نہ کہ واقعہ صلیب سے پہلے رفع الی اللہ ہونا۔