احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 45 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 45

تعلیمی پاکٹ بک 45 حصہ اوّل سے روح جسم سے الگ ہو جاتی ہے اور رفع کے خدا کا فاعل ہونے کی صورت میں رفع جسمی محالات میں سے ہے جیسا کہ پہلے ثابت کیا جا چکا ہے تو لہذا بَلْ زَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ مِن رَفَعَہ کی ضمیر کا مرجع گوا صیح ہے مگر مراد اس سے رفع الروح اور روحانی رفع ہے کیونکہ خالی ارواح بھی جب جسم سے الگ ہوں تو انہیں ان کے نیک اعمال کے مطابق ایک نورانی لطیف جسم دیا جاتا ہے اور پھر اس روح کا بھی وہی نام ہوتا ہے جو جسمانی مادی وجود میں رکھا گیا تھا۔پس مولوی ابراہیم صاحب کا یہ کہنا پورے طور پر درست نہیں کہ ارواح مجردہ بغیر تعلق بالبدن کے قابل تسمیہ نہیں ہوتے اور نہ جسم بے روح حامل اسم ہوتا (شهادة القرآن صفحه 166 تا168) ہے۔66 اصل حقیقت یہ ہے کہ ارواح جب مادی بدن سے مجرد ہوں تو انہیں اعمال کے مطابق فوراً ایک نورانی یا ظلمانی جسم عطا ہوتا ہے اور وہ ارواح مع اس جسم جدید کے قابل تسمیہ ہوتی ہے۔چنانچہ معراج کی حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انبیاء کرام علیہم السلام کو دیکھنا ان کے انہی لطیف اجسام کی صورت میں تھا اسی لئے آپ نے آدم، ابراہیم ، موسیٰ عیسی و یحیی علیہم السلام کے ناموں سے ہی ان کا ذکر نہیں کیا بلکہ حضرت ابراہیم موسیٰ ، اور عیسی علیہم السلام کے حلیے بھی بیان فرما دئیے مجرد روح تو کوئی حلیہ نہیں رکھتی۔پس آیت بَلْ زَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ کی تفسیر يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفَّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَى کے مطابق چونکہ حضرت مسیح کا رفع کامل بعد از وفات ہو لہذا رَفَعَهُ اللہ کی ضمیر کا مرجع حضرت مسیح کی روح مع جسم لطیف ہے جو قابل تسمیہ ہے اور اسے انتشار ضمائر نہیں قرار دیا جاسکتا بلکہ یہ امر صنعت استخدام کی ذیل میں آتا ہے جس سے کلام میں حسن پیدا ہوتا ہے نہ نقص۔آیت آمَاتَهُ فَأَقْبَرَہ میں اسی