احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 39 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 39

تعلیمی پاکٹ بک 39 (4) علامہ رشید رضا سابق مفتی مصر لکھتے ہیں : حصہ اول عَلَى الْقَوْلِ بِأَنَّ التَّوَفِّى اَلْاِمَاتَةُ لَا يُظْهِرُ لِلرَّفْعِ مَعْنَى إِلَّا رفعُ الرُّوح - تفسير المنار صفحه 20 زیر آیت النساء: 158) اس بات کی وجہ سے کہ توفی کے معنی مار دینے کے ہوتے ہیں رفع کے معنی صرف روح کا رفع ہی ہو سکتے ہیں۔یہ امر بھی واضح رہے کہ جب خدا تعالیٰ الرافع یعنی رفع دینے والا ہو تو اس سے ہمیشہ یہی مراد ہوتی ہے کہ خدا مومنوں کو سعادت عطا فرماتا ہے اور اپنے پیاروں کو اپنے قرب سے نوازتا ہے جیسا کہ لغت کی کتاب لسان العرب میں لکھا ہے: وَفِي أَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى الرَّافِعُ هُوَ الَّذِي يَرْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ بِالْإِسْعَادِ وَأَوْلِيَاءَ بِالتَّقْرِيبِ۔یعنی اللہ کے ناموں میں سے ایک نام الرافع ہے یہ وہ ذات ہے جو مومنوں کو خوش نصیبی اور اپنے پیاروں کو قرب دینے کے ذریعہ رفع دیتی ہے۔پس خدا کے مقرب ہونے کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ قرب پانے والا کوئی مادی مسافت طے کر کے خدا کے پاس پہنچا ہے بلکہ اس سے مراد خدا تعالیٰ کے حضور میں درجہ کی بلندی ہوتی ہے لہذا کمال رفع کا حصول موت کے بعد ہی ممکن ہوتا ہے گو رفع کے ابتدائی درجے اس دنیا میں بھی مومنین اور اولیاء کو حاصل ہوتے ہیں۔حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی آیت بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ۔کے مطابق ان کی شان کے مطابق کامل رفع خدا تعالیٰ کے حضور ان کی وفات کے بعد ہی ہوا۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے۔