احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 38
تعلیمی پاکٹ بک 88 38 اور خدا کا ذوجہت ماننا عقیدہ کفریہ ہے یہی وجہ ہے کہ محقق علماء نے یہ لکھا ہے: (1) امام فخر الدین رازی لکھتے ہیں: حصہ اول اِعْلَمُ أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ تَدُلُّ عَلَى أَنَّ رفعه في قوله (ورافعک إِلَيَّ) هُوَ الرِّفْعَةُ بِالدَّرَجَةِ وَالْمَنْقَبَةِ لَا بِالْمَكَانِ وَالْجِهَةِ۔(تفسیر کبیر الرازی زیر تفسیر سورة آل عمران : 56) یعنی اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو کہ حضرت مسیح کو جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے رَافِعُكَ اِلی اس سے مرا در فع درجہ اور منزلت ہے کسی جہت اور جگہ کی طرف رفع مراد نہیں۔( 2 ) علامہ محمود شلتوت مرحوم سابق مفتی مصرور یکٹر از ہر یو نیورسٹی لکھتے ہیں۔ظَاهِرًا أَنَّ الرَّفْعَ الَّذِي يَكُونُ بَعْدَ التَوَقِّيَّةِ هُوَرَفُعُ الْمَكَانَةِ لَا رَفْعُ الْجَسَدِ۔(الفتاوی صفحه (56) ترجمہ : ظاہر ہے کہ رفع جو توئی کے بعد ہے وہ مرتبہ کا رفع ہے نہ جسم کا رفع۔( 3 ) الاستاذ المصطفے المراغی لکھتے ہیں: التَّوَقِى هُوَ الاِ مَاتَةُ العَادِيَةُ وَ أَنَّ الرَّفْعَ بَعْدَهُ لِلرُّوح۔وَالْمَعْنى إِنِّي مُمِيْتُكَ وَجَاعِلُكَ بَعْدَ الْمَوْتِ فِي مَكَانٍ رَفِيْعِ عِنْدِي۔(تفسیر مراغی جلد 1زیر تفسیر سورة آل عمران : (56) یعنی توفی مار دینے کو کہتے ہیں اور جان لو رفع اس کے بعد رُوح کا ہے اور معنی آیت یہ ہیں میں تجھے مارنے والا ہوں اور تجھے موت کے بعد اپنے حضور بلند جگہ دینے والا ہوں۔