احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 539
احمدیہ علیمی پاکٹ بک 539 حصہ دوم لا ہوری فریق سے ہماری بدرجہ اولی لفظی نزاع ہوئی کیونکہ وہ ہماری طرح اس بات کے قائل ہیں۔حضرت مسیح موعود خدا تعالیٰ کی طرف سے یعنی مامور من اللہ ہونے کے دعویٰ میں بچے ہیں اور امت کے لئے مہدی معہو دو مسیح موعود ہیں اور خدا تعالیٰ نے آپ کا نام نبی اور رسول بھی رکھا ہے۔مندرجہ بالا حوالہ سے یہ بھی ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالمقابل نبی ہونے کا نہیں بلکہ اتباع نبوی میں خدا کے حکم سے نبوت پانے کا دعویٰ ہے۔پھر چشمہ معرفت میں آپ فرماتے ہیں:۔” خدا کی یہ اصطلاح ہے جو کثرت مکالمات و مخاطبات کا نام اس نے نبوت رکھا ہے“۔چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 341) الہذا خدا کی اصطلاح میں آپ نبی ہیں مگر مسلمانوں کی معروف اصطلاح میں آپ کا نبوت کا کوئی دعوی نہیں۔اس اصطلاح کے متعلق آپ نے لکھا ہے:۔اسلام کی اصطلاح میں نبی اور رسول کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں یا بعض احکام شریعت سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں یا نھی سابق کی امت نہیں کہلاتے اور براہ راست بغیر استفادہ کسی نبی کے خدا سے تعلق رکھتے ہیں“ ( مکتوب 17 راگست 1899) ان معنی میں نبی ہونے سے آپ کو شروع دعوی سے لے کر آخر تک ہمیشہ انکار رہا ہے اور اس جگہ اسلام کی اصطلاح سے مراد مسلمانوں کی عرفی اصطلاح ہے نہ کہ خدا کی اصطلاح۔خدا کی اصطلاح میں تو آپ اپنے تئیں نبی قرار دیتے ہیں اور در حقیقت اسلام کی کوئی اصطلاح خدا کی اصطلاح سے مختلف نہیں ہو سکتی۔کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے لاہوری فریق کے دوست دیر تک روٹھے رہنے