احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 538
احمدیہ علیمی پاکٹ بک 538 حصہ دوم لاہوری فریق آپ کی نبوت کو محد ثیت تک محدود قرار دیتا ہے۔اگر ہمارے یہ دوست مندرجہ بالا عبارتوں سے صحیح استفادہ کریں تو بے شک وہ مسیح موعود علیہ السلام کو محدث کہیں مگر انہیں نبوت میں آپ کا مقام تمام محدثین امت سے بالا سمجھنا چاہیے۔آخر علی وجہ الکمال محدث تو ہر نبی ہوتا ہے۔پس ہم میں اور ان میں لفظی جھگڑا رہ گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی ہونے کی وجہ سے علی وجہ الکمال محدث ہیں یا آپ کی نبوت محض محد ثیت تک محدود ہے۔اس سے بالا نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو اپنے اور دوسرے مسلمانوں کے درمیان بھی جو ابھی آپ کو نہیں مانتے نبوت کے بارہ میں ایک لفظی نزاع ہی قرار دیا ہے۔جیسا کہ آپ تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ 503 پر تحریر فرماتے ہیں:۔یہ کہنا کہ نبوت کا دعویٰ ( یعنی صرف نبی ہونے کا۔ناقل ) کیا ہے کس قدر جہالت کس قدر حماقت اور کس قدر حق سے خروج ہے۔اے نادانو میری مراد نبوت سے یہ نہیں کہ میں نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر کھڑا ہو کر نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں۔صرف مراد میری نبوت سے کثرت مکالمت و مخاطبت الہیہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے حاصل ہے (یعنی یہ فرمارہے ہیں کہ میرا دعویٰ ایسی نبوت کا ہے جس کے لئے امتی ہونا ضروری ہے۔ناقل ) پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی۔یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ مخاطبہ رکھتے ہیں میں اس کی کثرت کا نام بموجب حکم الہی نبوت رکھتا ہوں۔وَلِكُلّ أَنْ يُصْطَلِحَ “۔تتمہ حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 503) پس جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اور دوسرے مسلمانوں کے درمیان مسئلہ نبوت میں صرف ایک لفظی نزاع قرار دیتے ہیں۔نہ کہ حقیقی نزاع تو