احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 532 of 566

احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 532

احمدی تعلیمی پاکٹ بک 532 حصہ دوم خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 210-211) اس سے ظاہر ہے کہ دونوں زمانوں کی عبارتوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت ورسالت میں معنوی طور پر توافق اور تطابق ہے کوئی اختلاف نہیں۔(اختلاف صرف محدث کی تاویل اختیار کرنے میں ہے۔اور وہ بھی وحی الہی کے باعث اس قسم کا تدریجی انکشاف کسی مامور من اللہ کے دعوئی میں ہرگز قابل اعتراض نہیں ہوتا۔چنانچہ حضرت مجددالف ثانی علیہ الرحمۃ انبیاء کا تدریجی طور پر مقام نبوت پانا بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔راه دیگر آنست که بتوسط حصول ایں کمالات ولایت وصول بکمالاتِ نبوت میسر می گردد و این راه دوم شاهراه است واقرب است بوصول و هر که بکمالات نبوت رسیده است الا ماشاء اللہ تعالی بایں راه رفته است از انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام و از اصحاب کرام ایشان به تبعیت و وراثت۔مکتوبات مجد دالف ثانی جلد اوّل مکتوب 301 صفحہ 141 مطبوعہ رؤف اکیڈیمی لاہور ) یعنی دوسری راہ کمالات نبوت پانے کی یہ ہے کہ کمالات ولایت حاصل کرنے کے واسطہ سے کمالات نبوت کا حاصل کرنا میسر ہو یہ شاہراہ ہے اور کمالِ نبوت تک پہنچنے میں قریب ترین راہ ہے۔والا ماشاء اللہ۔اسی راہ پر بہت سے انبیاء اور ان کے اصحاب ان کی پیروی اور وراثت سے چلے ہیں۔پس جب پہلے ولایت کے مقام پر پہنچ کر ولایت یعنی محدثیت حاصل کرنے کے بعد کئی انبیاء (بقول مجدد الف ثانی ) نبوت کے مقام پر پہنچے ہیں اور اسی طرح مقام نبوت انہوں نے تدریجاً حاصل کیا ہے تو اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اپنی نبوت کی پوری شان ظاہر ہونے میں تدریج پائی گئی تو یہ کیونکر قابل اعتراض ٹھہر سکتی