احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 529
ندی تعلیمی پاکٹ بک 529 حصہ دوم نیز ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 478 پر علامات مسیح موعود کے ضمن میں لکھتے ہیں: از انجملہ ایک یہ ہے کہ مسیح موعود جو آنے والا ہے اس کی علامت یکھی ہے کہ وہ نبی اللہ ہو گا یعنی خدائے تعالیٰ کی طرف سے وحی پانے والا لیکن اس جگہ نبوت تامہ کا ملہ مراد نہیں کیونکہ نبوت تامہ کاملہ پر مہر لگ چکی ہے بلکہ وہ نبوت مُراد ہے جو محدثیت کے مفہوم تک محدود ہے۔جو مشکوۃ نبوت محمدیہ سے نور حاصل کرتی ہے سو یہ نعمت خاص طور پر اس عاجز کو دی گئی ہے۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 478) پس محدث کو ازالہ اوہام میں آپ نے مِنْ وَجْہِ نبی قرار دیا ہے۔اور اس سے نبوت تامہ کاملہ کی نفی قرار دی ہے جو تشریعی نبوت ہوتی ہے۔نبوت جزئیہ کی نفی نہیں کی بلکہ نبوت جزئیہ کا جاری رہنا حسب حدیث لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبوَةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ“ آپ نے اپنی کتاب توضیح مرام میں جو ازالہ اوہام سے بھی پہلے کی ہے۔بیان کیا ہے۔اور اس کی تشریح میں لکھا ہے:۔أَى لَمْ يَبْقَ مِنْ أَنْوَاعِ النُّبُوَّةِ إِلَّا نَوْعٌ وَّاحِدٌ وَّهِيَ الْمُبَشِّرَاتُ توضیح مرام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 60) یعنی نبوت کی اقسام میں سے صرف ایک قسم باقی ہے وہ الْمُبَشِّرَاتُ ہیں۔اسی نبوت کو محدث کی صفات بیان کرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ مغز شریعت اُس پر کھولا جاتا ہے اور بعینہ انبیاء کی طرح مامور ہو کر آتا ہے۔اور اس کے آگے لکھا ہے کہ۔پائے جائیں“۔نبوت کے معنی بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ امور متذکرہ بالا اس میں توضیح مرام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 60)